خضدار: انتخابی عملے کی تعیناتی کیخلاف اخترمینگل کی قیادت میں دھرنا

20 اپریل ، 2024

خضدار(نامہ نگار) حلقہ پی بی 20 خضدار تھری کے انتخابی عملے کی تعیناتیوں میں مبینہ جانبداری کا الزام،بی این پی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے بی این پی اور جمعیت علماء اسلام کے رہنمائوں کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر خضدار کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنادیدیا،دھرنے میں سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلی،خواتین و بچے بھی شریک ہیں ،دھرنا رات گئے تک جاری رہا، بی این پی کے قائدین کا الزام ہے کہ 90فیصد پرزائیڈنگ افسر مخالف امیدوار کے حمایتی لگائے گئے ہیں جو نتائج پر اثر انداز ہونگے، دوسری جانب جھالاوان عوامی پینل کے رہنمائوں نے ضلع خضدار کے مختلف مقامات پر دھرنے دے کر قومی شاہراہ پر کوبلاک کر دیا،تفصیلات کے مطابق ضمنی انتخابات کے لئے پریذائیڈنگ افسران و دیگر عملے کی تعیناتیوں کے آرڈر جاری ہونے کے بعدسردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ایک جلوس وڈھ سے نکالی گئی جس میں وہیر،زیدی،اور خضدار کے قافلے شامل ہو گئے دھرنے کے شرکانے سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر خضدار کے دفتر کے سامنے دھرنا دے دیا دھرنے میں سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلی میر محمد عثمان ایڈووکیٹ،میر عبدالرئوف مینگل،اختر حسین لانگو،حاجی احمد نواز بلوچ،جمعیت علماء اسلام کے رہنماء میر یوسف خان قلندرانی،مولانا عبدالصبور مینگل،بی این پی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر قدوس بلوچ اور خواتین وبچوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی دریں اثناء بی این پی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر قدوس بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانبداری نے ہمیں احتجاج پر مجبور کر دیا ہے ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک جانبدار انتخابی عملے کی تعیناتیوں کو منسوخ نہیں کیا جاتا دوسری جانب جھالاوان عوامی پینل کے کارکنان نے میر یاسر مینگل کی قیادت میں زیرو پوائنٹ خضدار،توتک کراس سمیت مختلف مقام پر دھرنا دے کر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا ، جس کی وجہ سے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جھالاوان عوامی پینل کے رہنماء میر یاسر مینگل کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مخالفین نے اپنی شکست کو قریب دیکھ کر واویلا شروع کر رکھا ہے۔