وفاقی حکومت نے کچے کے علاقے میں مشترکہ آپریشن کی منظوری دیدی

20 اپریل ، 2024

اسلام آباد( طاہر خلیل)وفاقی حکومت نے کچے کے علاقے میں مشترکہ آپریشن کی منظوری دے دی جس میںپولیس ،رینجرز اور دیگر متعلقہ ایجنسز شامل ہوں گی ،پاکستان بھر میںپولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پولیس سمیت تمام سکیورٹی ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے ایس او پیز پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنائیں، غیرملکی شہریوں کی حفاظت کے ایس او پیز پر عملدرآمد میں غفلت پر سخت تادیبی کاروائی کی جائے گی ۔ دہشت گردی کے قلع قمع کیلئے ہمیں اپنے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہو گا، کچے کے علاقے میں مشترکہ آپریشن کیا جائے گا۔ وہ نیکٹا ہیڈکوارٹر میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی جائزہ کمیٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔وفاقی سیکرٹری داخلہ، سربراہ نیکٹا، ڈی جی ایف آئی اے، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے آئی جیز ، صوبائی سیکرٹریز داخلہ ، نیشنل کوآرڈینٹر نیکٹا، نیشنل ایکشن پلان اور انٹیلیجنس اداروں کی تمام ٹیم اور چیف کمشنرز نےبھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں کچے کے علاقے میں مشترکہ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں تمام آئی جیز نے چینی شہریوں کی سکیورٹی اور حفاظت کے اقدامات بارے تفصیلی بریفنگ د ی جبکہ وضع کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں ایرانی صدر کے دورے کے دوران اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا جائزہ لیا گیا ۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے وفاق صوبوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا ،کچے کے علاقے میں مشترکہ آپریشن کے لئے ڈرونز سمیت جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے گا، سمگلنگ کی روک تھام کے لیے گزشتہ چند ماہ میں اچھی پیشرفت ہوئی اور اس میں خاطر خواہ کمی آئی، تمام ادارے مشترکہ حکمت عملی سے سمگلرز کے خلاف سخت قانونی کاروائی کو یقینی بنائیں۔