پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6 تا 8 ارب ڈالر کے اگلے بیل آؤٹ پیکیج کیلئے باضابطہ درخواست کردی

20 اپریل ، 2024

اسلا م آباد ( مہتاب حیدر) پاکستان نے آئی ایم ایف سے باضابطہ طور پر 6 سے 8 ارب ڈالر تک کے ای ایف ایف بیل آئوٹ پیکج کی درخواست کر دی ہے جس میں ماحولیاتی فنانسنگ کے ذریعے مزید بڑھانے کا امکان بھی موجود ہو۔ اگرچہ اس کا حقیقی حجم اور ٹائم فریم تو اسی وقت طے پاسکتے گا جب فریقین مئی 2024 میں اس کے بڑے خدو خال پر اتفاق رائے پیدا کریں گے۔ اس نمائندے نے واشنگٹن گئے ہوئے پاکستانی وفد کو ایک پیغام بھجوایاپاکستان نے مئی 2024 میں آئی ایم ایف کا ریویو مشن پاکستان بھجوانے کی درخواست بھی کی ہےتاکہ آئندہ تین برس کےلیے بیل آئوٹ پیکج کی تفصیلات طے ہوسکیں۔ اگرچہ پاکستانی حکام آئی ایم ایف کے سامنے پاکستانی معیشت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آئی ایم ایف نے اپنے ریجنل اکنامک آئوٹ لک برائے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے شعبے نے کہا ہے کہ پاکستان کے بیرونی بفرتباہ حال ہیں اور بشمول یورو بانڈزیادہ ترموجودہ قرض کی ادائیگی کی عکاسی کر رہے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ جہاں مہنگائی کا دبائو برقرار ہے وہاں مالیاتی پالیسی سخت رہنی چاہیے اور اسے ڈیٹا پر انحصار کرنے کا طرز عمل اپنتاتے ہوئے افراط زر میں اضافے کوختم کرنے کےلیے خطرات کو قریب سے مانیٹر کرنا چاہیے۔