پاکستانIMFسے طویل بیل آئوٹ پروگرام کا خواہاں، حجم پر بات کرنا قبل از وقت، NFCایوارڈپر نظر ثانی کرینگے، معاشی بہتری کیلئے چینی تعاون قابل تعریف ہے، وزیر خزانہ

21 اپریل ، 2024

واشنگٹن (خبر ایجنسیاں)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے طویل بیل آؤٹ پروگرام کا خواہاں ہے،حجم پر بات کرنا قبل از وقت ہے،نئے پروگرام کیلئےآئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت جاری ہے، مشن اسلام آباد آئے گا تو ترجیحات اور اصولوں پر متفق ہوں گے، صوبائی مارکیٹس کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے،این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی کرینگے،صوبوں سےمعاملے پر بات ہوگی، معاشی بہتری کیلئے چینی تعاون قابل تعریف ہے، پاکستان میں چینی شہریوں پر خودکش حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز واشنگٹن میں ایک انٹرویو،چائینز ہم منصب، انٹر نیشنل فنانس کارپوریشن، ایشیاء انفراسٹریکچر انویسٹمنٹ بینک اور ورلڈ بینک حکام کیساتھ ملاقاتوں میں کیا۔ تفصیلات کےمطابق اپنے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے پروگرام کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت جاری ہے، مشن اسلام آباد آئے گا تو ترجیحات اور اصولوں پر متفق ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پروگرام کے حجم پر بات کرنا قبل از وقت ہے،یہ پاکستان کا پروگرام ہے، آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں، پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قرض منظور ہوا تو این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کریں گے، 18 ویں ترمیم کے تناظر میں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ این ایف سی کے تحت بہت چیزیں صوبوں کو منتقل کی گئیں، ہم این ایف سی پر صوبوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔انہوںنے کہاکہ صوبائی مارکیٹس کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے، پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ سے بات چیت کی ہے، روپیکی قدر میں مزید کمی نہیں دیکھ رہے۔ علاوہ ازیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چینی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں پاکستانی معیشت کیلئے چینی تعاون کو سراہا اور سی پیک فیز 2 پر کام تیز کرنے کیلئے حکومتی عزم کا اعادہ کیا،ملاقات میں وزیر خزانہ اور چینی ہم منصب کی جانب سے بین الاقوامی اداروں میں تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا،وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ انفراسٹرکچر کی تعمیر سے متعلق ہے جبکہ دوسرا سی پیک فیز 2 اقتصادی زونز کی فعالیت سے متعلق ہوگا، پاکستان مالی سال 26-2025 کےدوران چینی پانڈا بانڈ لانچ کرنا چاہتا ہے،انہوں نے پاکستان میں چینی شہریوں پر دہشتگرد حملے کی مذمت کی اور جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا،علاوہ ازیں انہوں نے ورلڈ بینک کے علاقائی نائب صدر برائے جنوبی ایشیا مسٹر مارٹن رائزر سے ملاقات کی جس میں وزیر خزانہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو جلد ہی حتمی شکل دی جائے گی۔ توانائی، ٹیکس اصلاحات اور SOEs کے شعبوں میں حکومت کے اصلاحاتی زور کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ان شعبوں میں مختصر اور طویل مدتی اہداف حاصل کر رہی ہے۔ عالمی بینک کی سینئر قیادت کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹلائزیشن اور انسانی ترقی پر عالمی بینک کی توجہ حکومت کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔ وفاقی وزیر نے اقتصادی ترقی کے حوالے سے ملک کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے حکومت کے وژن کو اجاگر کیا۔انہوں نے سرمایہ کاری اور سہولت کے لیے ون ونڈو سہولت کے طور پر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے کردار پر بریفنگ دی۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ایشیاء انفراسٹریکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کے صدر جن لی قن نے ملاقات کی اور پاکستان کی اقتصادی ترجیحات سمیت بنیادی شعبہ کے ڈھانچے کی ترقی میں باہمی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے اے آئی آئی بی کے صدر کو آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کے کامیاب سٹینڈ بائی ایگریمنٹ کے نتیجہ میں پاکستان کے مثبت معاشی اشاریوں سمیت زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، پاکستان کرنسی کی قدر میں استحکام ، افراط زر کی شرح میں کمی کے حوالہ سے بھی آگاہ کیا،وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر میختر ڈیوپ سے ملاقات کی اور ملک میں آئی ایف سی کی سرگرمیوں میں تیزی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ خزانہ ڈویژن سے یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ 9 ماہ کے اسٹینڈ بائی معاہدے (ایس بی اے) کی بدولت ملک کے مثبت معاشی اشاریوں بشمول زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مستحکم کرنسی، افراط زر میں کمی، سٹاک مارکیٹ میں اضافہ اور مارکیٹ میں ادارہ جاتی/ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ ایک بڑے اور توسیعی پروگرام میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ ٹیکس اصلاحات کو وسعت دینا، توانائی کے شعبے کو ٹھیک کرنا اور سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ای) کی اصلاحات کو حکومت کی اہم ترجیحات قرار دیتے ہوئے اسلام آباد ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ میں تعاون پر آئی ایف سی کا شکریہ ادا کیا۔ ملک میں آئی ایف سی کی سرگرمیوں میں تیزی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ پی ایس ڈی پی کو پبلک پرائیویت پارٹنرشپ (پی پی پی) موڈ میں منتقل کرنے میں حکومت کی مدد کے لئے آئی ایف سی کی معاونت کی درخواست کی۔دیگر مصروفیات کے علاوہ وزیر خزانہ نے ورلڈ بینک کے کنٹری منیجمنٹ یونٹ سے ملاقات کے علاوہ آئی ایم ایف کے مڈل ایسٹ اینڈ سنٹرل ایشیاء ڈیپارٹنمنٹ کے زیر اہتمام فنانیشنل مارکیٹ ایکسس :چیلنجیز اینڈ اپرچونیٹیز جیسے اعلیٰ سطح کے مباحثوں میں شرکت کی اور ویزاکے علاقائی صدر اینڈریو ٹور سے بھی ملاقات کی۔