خودکش دھماکا، ڈبل روٹی کی وین درمیان میں نہ آتی تو بڑا جانی نقصان ہوسکتا تھا، نجی گارڈ ہیرو تھا

21 اپریل ، 2024

کراچی( اسٹاف رپورٹر )شرافی گوٹھ تھانے کی حدود میں غیر ملکیوں کی گاڑی پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خود کش حملہ آور کی جیکٹ کا مجموعی وزن چار سے پانچ کلو کے درمیان ہوسکتا ہے۔دھماکہ خیز مواد کے ساتھ بڑی مقدار میں بال بیرنگ کا استعمال بھی کیا گیا۔دھماکہ خیز مواد کی ساخت کی تشخیص کے لیئے خودکش حملہ آور کے جسم کے اعضاء محفوظ کیے گئے ہیں اور ملنے والے اعضا کے کیمیائی تجزیہ میں دھماکہ خیز مواد کا تعین ہوگا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق خود کش حملے کے وقت ڈبل روٹی سپلائی والی گاڑی غیر ملکیوں اور حملہ آوروں کے درمیان آ گئی۔خودکش دھماکے کا زیادہ اثر ڈبل روٹی والی سوزوکی کے عقبی حصے پر آ گیا۔نجی سیکورٹی گارڈ ہیرو رہا جس نے شہادت تک دہشت گردوں کا مقابلہ کیا،تفتیشی ذرائع کے مطابق اگر ڈبل روٹی سے بھری سوزوکی وین درمیان میں نہ آتی تو بڑا جانی نقصان ہوسکتا تھا اور اسی وجہ سے خودکش حملہ آور کے چیتھڑے بڑی مقدار میں عقبی جانب دور تک اڑے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ نے حملے کی ناکامی کا سہرا پولیس کے سر ڈال دیا جبکہ حملہ ناکام بنانے میں سب سے اہم کردار شہید سیکیورٹی گارڈ نے ادا کیا۔خودکش حملے کے بعد سیکیورٹی گارڈز نے دوسرے دہشت گرد کا مقابلہ کیا۔پولیس کے پہنچنے تک دوسرا دہشت گرد زخمی ہوچکا تھا اور اینٹوں کے تھلے کو مورچہ بنانے والے دہشت گرد کو گردن پر گولی لگ چکی تھی۔زخمی حالت میں دہشت گرد سیکیورٹی گارڈز پر گولیاں چلاتا رہا بعد ازاں قریب موجود پولیس اہلکار نے پہنچ کر زخمی دہشت گرد کو سر پر گولی مار کر ہلاک کیا۔خودکش حملہ آور کے شناخت کے لیئے محفوظ کیے گئے نمونے ڈی این اے کے لیئے بھیجے جائیں گے۔واقعہ کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا جا سکا ہے۔