قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا فدویانہ کردار‘فرمانبردارانہ رویہ

23 اپریل ، 2024

اسلام آباد (محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) تحریک انصاف کے آزاد ارکان پر مشتمل قومی اسمبلی میں حزب اختلاف پیر کی شام اجلاس شروع ہونے پر فدویانہ کردار میں نظر آئی جب اس کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے ایرانی صدر کی آمد کے خیرمقدم کی تمہید باندھ کر اسپیکر سے استدعا کی کہ حزب اختلاف کے دوارکان محمد اقبال خان اورجمشید احمددستی کو رواں اجلاس سے معطل کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے‘ حزب اختلاف اپنے فرمانبردارانہ اور سعادت مندانہ رویئے کے باعث پیر کو حکمران اتحاد کی بی ٹیم کا کردارادا کررہی تھی۔اس سے پہلے اسپیکر چیمبر میں حزب اختلاف کے بعض ارکان نے صاحبزادہ حامد رضا کی سربراہی میں ایاز صادق سے طویل ملاقات کی اور انہیں فیصلہ واپس لینے پر قائل کیا‘ملاقات کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس بھی کم و بیش ڈیڑھ گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوا۔مسلم لیگ نون کی مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدوار نے رکنیت کا حلف اٹھایا تو حزب اختلاف کے ارکان جوایسے مو اقع پر ہلڑبازی اور ہنگامے سے پارلیمنٹ کو سر پر اٹھالیتے تھے مکمل خاموش رہے۔ قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کو تقریرکا موقع دیا گیا تو انہوں نے نکتہ اعتراض پردیروزہ ضمنی انتخابات کے صاف شفاف ہونے پر دھواں دار تقریر کردی جس کے دوران کوئی نعرے بازی یا شور نہیںہوا۔معلوم ہوا ہے کہ حکمر اں اور حزب اختلاف کے پارلیمانی گروپ نے اسپیکر کی سرکردگی میں ہائوس بزنس کمیٹی کی تشکیل پر مفاہمت کرلی ہے جو ہر اجلاس کے آغاز سے پہلے اسے چلائے جانے کے بارے میں لائحہ عمل طے کرے گی ‘بتایا جاتا ہے کہ حزب اختلاف کے ارکان پر واضح کردیا گیا تھا کہ اسپیکر ایوان میں امن و سکون کا ماحول برقرا رکھنے کے لئے ہلڑبازی اور غنڈہ گردی کے مرتکب ارکان خواہ ان کی تعداد کس قدر ہی کیوں نہ ہو اجلاس سے باہر نکال سکتے ہیں اور اس سلسلے میں آئندہ کوئی رعایت نہیں دی جائےگی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف کے نام پر منتخب ارکان کی نصف سے زیادہ تعداد قومی اسمبلی جلاس سے مسلسل غیر حاضر چلی آرہی ہے جس سے گمان کیا جارہاہے کہ حزب اختلاف کے بیشترارکان اپنی قیادت کےرویئے سے مطمئن نہیں ہے اور وہ دوسری جماعتوں سے رابطے میں ہیں۔