ایران پر حملہ اسرائیل کا خاتمہ ، غزہ پر پاکستان و ایران کا موقف ایک ، جنگ میں فلسطینی کامیاب ہونگے ، ایرانی صدر ، مزار اقبال اور مزار قائد پر حاضری

24 اپریل ، 2024

لاہور /کراچی ( نمائندہ خصوصی/ جنرل رپورٹر/ اپنے نامہ نگار سے/جنگ نیوز/ایجنسیاں)غزہ پر پاکستان اور ایران کا متفقہ موقف سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ کرنا اسرائیل کی بقا کیلئے خطرناک ثابت ہوگا اور اس جنگ میں اسرئیل کا خاتمہ یقینی ہے،ایرانی صدر ابرہیم رئیسی نے کہا ہے کہ غزہ پر پاکستانی موقف کو سراہتے ہیں،جنگ میں فلسطینی کامیاب ہونگے،یہاں عوامی جلسے سے خطاب کر نا چاہتا تھا جو کچھ وجوہات سے ممکن نہ ہوسکا،ابراہیم رئیسی نے مزار اقبال پر حاضری دی ،گورنر ہائوس ظہرانے میں شرکت کی ،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ایرانی صدر سے ملاقات کی ، اقتصادی منصوبوں میں شراکت کی خواہش کا اظہار کیا،صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ لاہور اور کراچی کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات ۔تفصیلات کے مطابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی دورہ پاکستان کے دوران لاہور پہنچے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور ایئرپورٹ پہنچنے پر ایرانی صدر،خاتون اول اور وفد کا استقبال کیا، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ اس کے علاوہ صوبائی وزراء مجتبیٰ شجاع الرحمان، بلال یاسین، خواجہ سلمان رفیق، چودھری شافع حسین، چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب بھی اس موقع پر موجود تھے۔ایرانی صدر کے دورہ لاہور کی مناسبت سے شہر کی اہم شاہراہوں کو خیرمقدمی بینرز سے سجایا گیا تھا۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ایئر پورٹ سے مزار اقبال پہنچے جہاں مولانا عبدالخبیر آزاد نے ان کا استقبال کیا، پنجاب رینجرز کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو مزار اقبال پر گارڈ آف آنر پیش کیا۔معزز مہمان نے شاعر مشرق علامہ اقبال کےمزار پر حاضری دی ، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے شاعر مشرق کو خراج عقیدت پیش کیا، بعدازاں انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔ مزار اقبال پر میڈیا سے گفتگو میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے امت مسلمہ کو نئی راہ دکھائی، جیسے آپ کو اپنی قوم پر ناز ہے ویسے ہمیں بھی اپنی قوم پر ناز ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سپریم لیڈر بھی یہی کہتے ہیں اس جنگ میں غزہ اور فلسطین والے جیتنے والوں میں سے ہوں گے، اس جنگ میں تباہی صیہونیوں اور اسرائیلیوں کی ہوگی، غزہ سے متعلق اصولی موقف پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاک ایران دوستی کوہ ہمالیہ سے بھی بلند ہے، پاکستان میں آکر اجنبیت کا بالکل احساس نہیں ہوا، خواہش تھی کہ پاکستان میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتا۔بعدازاں ایرانی صدر گورنر ہاؤس لاہور پہنچے جہاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے ان کا استقبال کیا۔ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی گورنر ہاؤس میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کے فروغ اور دوطرقہ ترقی و خوشحالی بارے گفتگو کی گئی۔گورنر ہاؤس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نےایرانی صدر اور خاتون اول کا لاہور آمد پر شکریہ ادا کیا۔گورنر ہائوس میں ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب نےاسلامی انقلاب کی 45ویں سالگرہ پر مبارکباد بھی پیش کی۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاک ایران دوستی کی تاریخ عشروں پر محیط ہے،تہران کے سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کرینگے۔ مریم نواز نے کہا کہ ایران کے ساتھ غربت کے خاتمے کیلئے اقتصادی منصوبوں پر کام کرنے کے خواہاں ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صنعتی ،زرعی ترقی کیلئے دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایف ایم ڈی زونز کے قیام ، حلال گوشت برآمد سے دونوں ممالک کثیر زرمبادلہ حاصل کرسکتے ہیں۔ صدر ابراہیم رئیسی نے لاہور شہر کی بھرپور ثقافتی تاریخ کو سراہا۔ایرانی صدر نے شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی تعریف کی جنہیں ایران میں ’’اقبال لاہوری‘‘ کہا جاتا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کے موقع پر گفتگو میں کہا کہ پاک ایران دوستی کی تاریخ عشروں پر محیط ہے۔ایرانی صدر اور وفد کے اعزاز میں گورنر ہاؤس لاہور میں ظہرانہ دیا گیا جس میں روایتی دیسی کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ایرانی صدر اور خاتون اول نے پرتپاک استقبال پر وزیر اعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔دریں اثناءگورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں تقریب سے خطابکرتے ہوئے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ ایرانیوں کے دل ہمیشہ پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں میں ایران کےلیے خاص محبت پائی جاتی ہے، ایرانی عوام بھی پاکستانیوں کےلیے اسی طرح کے جذبات رکھتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی مراسم ہیں۔ قوموں کی برادری میں نمایاں مقام حاصل کرنے کےلیے سائنس و ٹیکنالوجی پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں مربوط حکمت عملی سے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ڈاکٹر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کا رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوگا۔فلسطین سے متعلق بات کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان اور ایران کا مؤقف واضح ہے۔ مسئلہ فلسطین کا حل خطے میں امن و استحکام کےلیے ضروری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل صرف مسلم امہ کا نہیں بلکہ پوری دنیا کےلیے اہم ہے۔ غز ہ میں اب تک ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔بعد ازاں اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرابراہیم رئیسی خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی پہنچ گئے۔ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے ایئرپورٹ پر استقبال کیا،ایرانی صدر لاہور سے کراچی آمد پر کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، گورنر سندھ نے معزز مہمان کی کراچی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری، صوبائی وزراء عذرا پیچوہو، شرجیل انعام میمن اور سید ناصر حسین شاہ نے بھی ایرانی صدر کا استقبال کیا۔ایرانی صدر نے مزار قائد پر حاضری دی ،گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایرانی صدر کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری پیش کی ، جبکہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نےپرتکلف عشائیہ دیا۔