دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ، شہداء فورم بلوچستان کی سپریم کورٹ میں درخواست

24 اپریل ، 2024

اسلام آباد(ر انامسعود حسین) شہداء فورم بلوچستان نے سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں عدالت سے وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو نیشنل ایکشن پلان 2014 پر عملدرآمد یقینی بنانے ، دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ قانونی اور عدالتی اصلاحات کرنے کا حکم جاری کرنے،پولیس آرڈر 2002پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا حکم جاری کرنے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو عدالتوں میں زیر التواء دہشت گردی کے تمام مقدمات کے ٹرائل کو فوری طور پر مکمل کرنے، استغاثہ کوایک مضبوط اور عالمی معیار کا نظام قائم کرنے،گواہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرنے ،شہدا ء کے بچوں کے لیے مفت تعلیم اور تحفظ فراہم کرنے ،سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دہشت گردی کے فروغ و تشہیر اورجعلی خبروں کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنے، اس مقصد کے لیے ایک خود مختار اتھارٹی قائم کرنے، لاپتا افراد کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے اوردہشت گرد وں کو پروپیگنڈہ کے طور پر لاپتہ افراد کی فہرست میں شمار کروانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے،درخواست گزار وشہدا فورم بلوچستان کے پیٹرن ان چیف، نوابزادہ جمال رئیسانی نے منگل کے روزحافظ احسان کھوکھر ایڈوکیٹ کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت دائر کی گئی دخواست میں وفاقی حکومت کو بذریعہ وزارت قانون ،دفاع اور داخلہ جبکہ چاروں صوبائی حکومتوں کو متعلقہ چیف سیکرٹریوںکے ذریعے فریق بناتے ہوئے ملک میںدہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان 2014پر عمل درآمد یقینی بنانے کی استدعا کی ہے،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مربوط عملدرآمد نہ ہونے کی بناء پر دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیوں سمیت دیگر بنیادی حقوق بری طرح متاثر ہورہے ہیں ،درخواست گزار نے کہا ہے کہ پاکستان کو غیر ملکی فنڈڈ منظم دہشت گردی کا سامنا ہے اور اب تک اس کی وجہ سے 80ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو 150ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے،درخواست میںمزید کہا گیا ہے کہ وطن عزیز میں دہشت گرد اور غیر ریاستی ملک دشمن عناصر بدستور سرگرم ہیں اور ہر گزرتے دن دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے ،صرف رواں سال کی پہلے سہ ماہی میں دہشت گردی کے 465حملے ہوئے ہیںجن میں 122سکیورٹی اہلکار اور 95سویلین شہری جان بحق ہوئے ہیں جبکہ 2023بدترین سال رہا ہے جس میں مسلح افواج کے 500اہلکار شہید ہوئے ہیں،درخواست گزار کے مطابق دہشت گردی کے ان واقعات کی وجہ سے معشیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے اور تجارتی سرگرمیاں ختم ہوکر رہ گئی ہیں، آئین کے آرٹیکل ہاء 9,14,15 ,16 ,17, 18 اور25کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق بری طرح متاثر ہورہے ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحد کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخوا ء اور بلوچستان سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہورہے ہیں اور ان دو صوبوں میں مجموعی دہشت گردحملوں کے 92واقعات رونما ہوئے ہیں،درخواست میں 2018سے لیکر2024تک کے دہشت گردی کے واقعات اور ان میں ہونے والی جانی نقصانات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2023میں دہشت گردی کے 1514واقعات رونماہوئے جن میں 572سکیورٹی اہلکار اور 358سویلین شہری جبکہ مجموعی طور پر 930افراد لقمہ اجل بنے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 16دسمبر 2014کو آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان تیار کرکے 24دسمبر کو پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دی تھی لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اتفاق رائے سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا گیا ،جس کی وجہ سے دہشت گردی مزید بڑھ گئی ہے۔