کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کب تک مارا ماری کا شکار رہے گا اس کا کوئی حل نکالنا ہے اس لئے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جو صوبے کی تمام جماعتوں اور قبائل شخصیات ، اپوزیشن جماعتوں سے ملاقات کرکے حتمی رائے دے گی ، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی جماعتوں سمیت قبائلی زعماء کو اعتماد میں لیکر پارلیمنٹ کے ذریعے مذاکرات کیلئے شرائط طے کرکے پرامن بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گے، قومی شاہراہوں کو سفر کیلئے محفوظ بنانے کیلئے جہاں بھی ضرورت ہے وہاں چیک پوسٹیں قائم کرین گے ، وفاقی حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کیلئے بننے والے کمیشن نے 80 فیصد کیسسز حل کرلیئے ہیں، محکموں کی بہتری کیلئے اصلاحاتی ایجنڈا تیار کیا ہے جسکا مقصد صوبے میں بہترین گورنس کو یقینی بنانا ہے ،پی ایس ڈی پی کو بہتر بنانے کیلئے کام کررہے ہیں۔یہ بات انہوں نے منگل کی شب وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر صوبائی وزراء حاجی علی مدد جتک ، سردار عبدالرحمٰن کھیتران ، سردار سرفراز چاکر ڈومکی ، میر شعیب نوشیروانی ، ضیاءاللہ لانگو ، آغا شکیل احمد درانی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ قومی شاہراہوں سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانا اورعوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے ، صوبائی وزیر داخلہ کو قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ مل کر سیکیورٹی پلان کا از سرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے ہماری کوشش ہے کہ معاملات کو بہتر بنانے کیلئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی جماعتوں اور قبائلی زعماء کو آن بورڈ لیکر حالات کی بہتری کیلئے آگے بڑھنے کیلئے موثر حکمت عملی کے تحت مذاکرات کیلئے شرائط طے کی جاسکیں جس کے لئے کمیٹی قائم کی ہے جس میں سردار عبدالرحمٰن کھیتران ، حاجی علی مدد جتک ، میر شعیب نوشیروانی ، میر ضیاءلانگو شامل ہیں ۔جو سیاسی جماعتوں سے رابطے کرکے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے گی تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے حکمت عملی طے کرکے آگے بڑہیں گے ، حالات کی بہتری اور مسائل کے حل کیلئے حکومت پارلیمنٹ سمیت ہرشخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردی کا تدارک کرکے بلوچستان کے سلگتے ہوئے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کیلئے بننے والے کمیشن نے 80 فیصد کیسسز حل کرلیئے ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی شخص لاپتہ ہو لیکن اس حوالے سے حقائق پر مبنی شواہد سامنے آنے چاہیں نہ کہ حکومت اور ملکی اداروں پر الزام تراشی کی جائے جب تک کسی بھی لاپتہ شخص کی تصدیق نہ ہو اس کے حوالے سے کسی کو بھی موردالزام ٹھہرانا درست نہیں بعض ایسے افراد ہیں جو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں بعض لاپتہ افراد اب بھی علیحدگی پسند تنظیموں کے لیے کام کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والوں کی پناہ گاہیں آج بھی افغانستان میں موجود ہیں اور را فنڈڈ تنظیمیں بلوچستان میں دہشت گردی کر رہی ہیں اور کئی بے گناہ افراد کو انہوں نے قتل کیا ہے پیپلز پارٹی کے رہنماء نصیب اللہ مری کے الیکشن کیمپ پر حملہ کرکے ایک شخص کو قتل کیا گیا اس کی مذمت کرتا ہوں بے گناہ لوگوں کے قاتلوں کے خلاف جنگ میں معاشرے کے ہر طبقے کو ساتھ دینا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ مذہبی دہشت گردی کرنیوالوں کو افغانستان سے معاونت ہورہی ہے اور بلوچستان میں موجود گروپوں کو بھی وہیں سے معاونت ہوتی ہے بلوچستان میں قیام امن کے لیے ہوم ورک کرکے وفاق کے پاس جائیں گے ، وفاق کو قیام امن کے لئے لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا کہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے کیلئے ترقیاتی منصوبوں کی چھان بین سمیت مختلف مراحل مکمل کرکے پی ایس ڈی پی میں شامل کرینگے صوبائی حکومت اور کابینہ مکمل ہونے کے بعد محکموں کی بہتری کیلئے اصلاحاتی ایجنڈا تیار کیا ہے جسکا مقصد صوبے میں بہترین گورنس کو یقینی بنانا ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کب تک لوگوں کی مارا ماری ہوتی رہے گی اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ہمیں موثر حکمت عملی بناکر وفاق کے ذریعے مذاکرات سے راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ پارلیمنٹ اور قبائلی زعماء اس حوالے سے حکمت عملی طے کریں کہ مذاکرات کن شرائط پر ہونگے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نوشکی واقعہ جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات کررہے ہیں ، شاہراہوں پر چیک پوسٹوں کا قیام ضروری ہے ، ہم اپنی شاہراہوں کو سفر کیلئے محفوظ بنائیں گے قومی شاہراہوں کو سفر کیلئے محفوظ بنانے کیلئے سیکیورٹی کے حوالے سے جہاں بھی ضرورت ہے وہاں مزید چیک پوسٹیں قائم کرینگے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ناراض بلوچ کی اصطلاح میڈیا کی ہے وہی اس کا جواب دے سکتا ہے بلوچستان فیڈریشن کی اکائی ہے اور ہم مشاورت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہے اور کوئی 10سے25سال کیلئے پلان ترتیب دے کر آگے بڑھیں گے اور قوم کو ڈبل مائنڈ سے نکل کر حالات خراب کرنے والوں اور جو لوگ پارلیمنٹ پر اعتماد کرکے گورننس کی بہتری اور تعمیر و ترقی چاہتے ہیں ان کا تعین کرنا ہوگا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے اعتبار سے 43 فیصد ہے ہمیں اپنے وسائل کو صحیح استعمال میں لاتے ہوئے گورننس کو بہتر بنانا ہوگا پی ایس ڈی پی ہی مسائل کا حل اور مسائل کی جڑ ہے اسکو بہتر بنانے کیلئے کام کررہے ہیں۔کوئٹہ کی صفائی کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی بہتری کیلئے ہم نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو ذمہ داری اور وسائل فراہم کئے ہیں اور پی ڈی ایم اے کی مشینری کے ذریعے کچرے کو ٹھکانے لگا رہے ہیں میٹروپولیٹین کارپوریشن میں میر ، معتبر خاکروب بھرتی ہوئے ہیں جو ڈیوٹی نہیں دیتے ۔کوئٹہ پیکج پر بھی کام جاری ہے ہمیں مہذب شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے احساس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے حکومت اور اداروں کی جانب سے بنائی جانیوالی چیزوں کی حفاظت کرنا ہوگی۔
اسلام آ باد وزیراعظم کا مالیاتی ٹیم کو کامیاب بجٹ پیش کرنے پر خراجِ تحسین ،وزیراعظم محمد شہباز شریف نے...
اسلام آبادسینیٹ اجلاس میں فنانس بل 2026کی کاپی پیش،قائمہ کمیٹی سے سفارشات طلب،تفصیلات کے مطابق چیئرمین سید...
اسلام آباد نئے مالی سال کے بجٹ میں پن بجلی اور آبی ذخائر میں کے لیے بھاری رقم مختص کی گئی ، بجٹ میں دیامر...
اسلام آباد وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1676ارب50کروڑ 90لاکھ روپےمقرر کیا ہے ذرائع...
کراچی اسپیس ایکس کا تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او، مسک دنیا کے پہلے ٹرلینیئربن گئے۔ کمپنی نے 208 کھرب روپے...
اسلام آبادرواں مالی سال کیلئے 25.16 کھرب روپے وسائل کا ہدف مقرر ،وسائل میں 24فیصد اضافہ کی توقع، محصولات کا ہدف...
کوئٹہگورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے، افواہوں اور جعلی خبروں کے...
اسلام آباد وزارتِ ریلوے کے ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری و نئے منصوبوں کی مجموعی مالیت 25 کھرب 13 ارب روپے سے...