عالمی استعمار کےبعد علمی استعما ر کے خلاف جنگ کرناہوگی، ایرانی خاتون اول

24 اپریل ، 2024

کراچی(نمائندہ جنگ)ایران کی خاتون اول ڈاکٹر جمیلہ عالم الہٰدی نے کہا ہے کہاسلام عفت و پاکیزگی کو اہمیت دیتا ہے، مغربی میڈیا حجاب میں خواتین کو لاچار بناکرپیش کرتا ہے،افلاطون اور روسو کے فلسفوں کی سیاسی اغراض تھیں،عالمی استعمار کےبعد علمی استعما ر کے خلاف جنگ کرناہوگی۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار آئی بی اے کے سٹی کیمپس میں جامعہ کراچی اور خانہ فرہنگ کراچی کے کلچرل سینٹرل کے اشتراک سے ابھرتے ہوئے مسلم تمدن میں خواتین کے کردار کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔پاکستان کی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی،سیمینار سے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی صاحبزادی ریحانہ رئیسی، جامعہ کراچی کے کلیہ معارف اسلامیہ کے ڈین پروفیسر زاہد علی زاہدی ،خانہ فرہنگ ایران کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید طالبی نیا اور دیگر نے خطاب کیا،ایرانی خاتون اول کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں عورتیں مردوں سے آزادی کے حصول کیلیے کوشاں ہیں تو اس کے پیچھے یہ تصور ہے کہ کیپٹل ازم کے فلسفے سے آزادی اور سوشل ازم سے مساوات کا تصور لیا گیا ہے، دنیا بھر میں یہی زیر بحث ہے اور اس عمل کو میں علمی استعمار کہتی ہوں،آپ نے اور ہم نے عالمی استعمار کے خلاف جنگ کی اور اب ہم مل کر علمی استعمار کے خلاف جنگ کریں گے۔ایران میں دنیا کے نظام کے برعکس فلسفیوں کی بجائے علماء اور فقہاء کے ہاتھوں میں نظام ہے۔ایران کی خاتون اول نے کہا کہ اندلس اور اسپین کی طرح فحاشی پھیلانے کیلئے ایران پر تسلط قائم کرنے کے بعد برطانیہ نے حجاب پر پابندی عائد کردی تھی،جو کافی حد تک ایرانی معاشرے میں پھیلانے میں کامیاب رہا،انہوں نے اپنا کلچر یہاں رایج کرنے کی کوشش کی تاہم انہیں مکمل کامیابی حاصل نہ ہوسکی،شہید مدرس اور شیخ فضل اللہ نور اور علماء کرام کی جدوجہد آیت اللہ خمینی تک پہنچی، ایران اور پاکستان میں خواتین جامعات اور زندگی کے دیگر شعبوں میں یکساں فعال اور بھرپور کردار ادا کررہی ہیں،جس میں مردوں کا بھی اہم کردار ہے، ،اس موقع پر ایران کی خاتون اول جمیلہ علم الہٰدی کی کتاب کے اردو ترجمے نسوانی زندگی کا فن کی رونمائی کی گئی، اور مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ایران کی خاتون اول نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ خوش قسمتی سے ایران میں دین کا علم انفرادی سے سماجی سطح میں داخل ہوچکا ہے، انہوں نے کہا کہ فلسفہ معاشروں کے مسائل حل کرتا ہے،لیکن افلاطون ہو یا روسو ان کے فلسفےکے سیاسی اغراض و مقاصد تھے،آیت اللہ خمینی تک پہنچی،امام آیت اللہ خمینی نے انقلاب کی کامیابی کے بعد سیاسی اور اقتصادی نظام میں فقہ کو مرکز بنایا،انہوں نے حجاب کو لازمی قرار دیا،امام خمینی جانتے تھے کہ حجاب سے خاندانی نظام اور معاشرہ محفوظ ہوگا،ان کی سوچ درست ثابت ہوئی ، ایران اور وہاں کی خواتین نے حجاب کے زیر سایہ ترقی کی،خطے کے دیگر ممالک ی جانب سے اس کا خیر مقدم دیکھ کر استعماری ممالک نے اس کی مخالفت شروع کردی،کیونہ وہ اپنا کلچر رائج کرنے کیلئے کوشاں تھے،ایسے میں رہبر امام خمینی نے اسلامی ثقافت کو رائج کرنے کا بیڑہ اٹھایا، جس سے مغربی نظام نافذ کرنے والے پریشان ہوگئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس محدود میڈیا ہونے کی وجہ سے مغرب نے اپنے میڈیا کے ذریعے اس کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا، مغربی ممالک ایران اور حجاب میں ایرانی خواتین کی ترقی سے خوفزدہ ہوگئے،اسی لیے انہوں نے حجاب میں خواتین کو لاچار بنا کر پیش کرنا شروع کردیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام عفت و پاکیزگی کو اہمیت دیتا ہے اور آج دنیا میں باحجاب خواتین پاکیزہ ہیں،امام خمینی نے اس صدی کو کامیابی کی قرار دیا تھا،اس لیے خواتین سمیت معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اہمیت کو جانیں اور کردار کی بلندی کو پہچانیں،ہمیں خوشی ہے کہ دنیا میں جب ہمارا بائیکاٹ کیا جارہا ہے لیکن پاکستان میں ہمارے پیغام کو سنا جارہا ہے،اپنے دو روزہ دورے میں یہاں خواتین کو حجاب میں کام کرتے دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔