ایمنسٹی اسکیم؟

اداریہ
24 اپریل ، 2024

وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم ملکی معیشت کی بحالی کے لئے غیر روایتی اقدامات کر رہی ہے۔ اس کا سب سے اہم نکتہ ملک کے اندر وسائل پر زیادہ سے زیادہ انحصار ہے جس کیلئے محصولات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لئے جو روڈ میپ بنایا گیا ہے اس پر عملدرآمد کے لئے آئی ایم ایف اور دوست ملکوں سے قرضے بھی حاصل کئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم ٹیکس نظام میں اصلاحات کی خود نگرانی کر رہے ہیں ان کہنا ہے کہ قومی خزانے کا سینکڑوں ارب قانونی تنازعات کا شکار ہے۔ انہوں نے ٹیکس کیسز میں دانستہ التوا کا نوٹس لیتے ہوئے چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو اسلام آباد اور ان کے ساتھ متعلقہ افسروں کو معطل کرکے انکوائری کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی واضح کیا ہے کہ اب کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں آئے گی۔ لوگوں کو ٹیکس دینا پڑے گا۔ واضح رہے کہ ملکی معیشت میں ٹیکس کا حصہ 9فیصد ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔ ماضی میں ایمنسٹی اسکیمیںجاری کی جاتی رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگ اپنے اثاثے ظاہر کرکے معمولی سا ٹیکس ادا کرکے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ 2022ءمیں اس حوالے سے ایک انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس بھی جاری ہوا تھا۔ماضی میں کچھ افراد نے کالا دھن تو سفید کروایا لیکن اس سے ملک کی معاشی ترقی کو کوئی زیادہ مددفراہم نہ ہوسکی۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 9 سے 10 ارب ڈالر تک رہیں گے۔ جولائی تک پی آئی اے پرائیویٹائز ہوجائے گی ۔ اسلام آباد ایئر پورٹ کی نجکاری کے لئے ترکیہ اور یو رپ سے بات چیت جاری ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان کیلئے ورلڈ بینک 10 سال تک سپورٹ کرنے کو تیار ہے۔ آئی ایم ایف نے نئے پروگرام کے لئے رضامندی ظاہر کی ہے۔ عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوچکا ہے۔ روپیہ مستحکم اور مہنگائی اگلے سال کے آخر تک سنگل ڈیجٹ تک آجائے گی۔ توقع ہے ان اقدامات سے معاشی حالت بتدریج بہتر ہوگی۔