باجوہ نے دوسری ایکسٹینشن مانگی، مارشل لاء کی دھمکی دی، تجزیہ کار

24 اپریل ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘میں میزبان علینہ فاروق کے سوال نواز شریف کو صحت کی بناء پر لندن بھجوانے میں کردار نہیں، جنرل باجوہ کی صحافی سے گفتگو، کیا جنرل (ر) باجوہ کا بیان درست ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہاکہ جنرل باجوہ نے حکومت سے دوسری ایکسٹینشن مانگی یہاں تک کہ مارشل لاء کی دھمکی دی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر فوج کے اندر سے دبائو تھا کہ کچھ عمران خان حکومت کو بھی کرنے دیں،خواجہ آصف آن ریکارڈ ہیں کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے باہر گئے تھے۔پروگرام میں تجزیہ کارمحمل سرفراز،ارشاد بھٹی ،سلیم صافی اور عمر چیمہ نے اظہار خیال کیا۔محمل سرفراز نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پی ٹی آئی کی وزیر یاسمین راشد بتاتی تھیں، فوج میں بھی سوچ تھی کہ نواز شریف کو جیل میں کچھ ہوگیا تو بحران پیدا ہوجائے گا،ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ فوج نے اعتماد کے ووٹ کے بعد پی ٹی آئی کوبتادیا تھا ہم تھک گئے ہیں اب اپنے معاملات خود چلائیں ، عمران خان جنرل باجوہ کو تیسری ایکسٹینشن دینا چاہتے تھے مگر جنرل باجوہ کی دلچسپی نہیں تھی، فوج کے کچھ جنرلز جنرل باجوہ کی ایک سال کیلئے تیسری ایکسٹینشن میں دلچسپی رکھتے تھے تاکہ پھر ان کا نمبر آجائے، یہ ٹھیک ہے کہ جنرل باجوہ کسی اور جنرل کو آرمی چیف بنوانا چاہتے تھے ،سلیم صافی نے کہا فوج نے صرف سپورٹ واپس لی اور عمران خان کی حکومت گرگئی، عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں فوجی نیوٹرل تھی، نواز شریف کے لندن جانے میں آئی ایس آئی کا بنیادی کردار تھا، آئی ایس آئی کے کردار سے آرمی چیف جنرل باجوہ آگاہ نہ ہوں ایسا نہیں ہوسکتا، جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن نہ مانگنے کی بات پر بھی یقین نہیں کیا جاسکتا، جنرل باجوہ نے پہلی ایکسٹینشن کیلئے بہت جتن کیے تھے، ن لیگ جیسی مخالف جماعت کو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کیلئے منایا گیا تھا، عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے فوج کی طرف سے پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا ، نواز شریف نے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دیتے ہوئے کوئی مطالبہ نہیں رکھا تھا۔دوسرے سوال پی ٹی آئی کے سابق وزراء کے نام ای سی ایل سے خارج، کیا یہ اقدام حکومت کی طرف سے تحریک انصاف سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش ہے؟ کا جواب دیتے ہوئےارشاد بھٹی نے کہا کہ سابق پی ٹی آئی وزراء کے نام ای سی ایل سے خارج کرنے سے کیا بہتری آئے گی، محمل سرفراز کا کہنا تھا حکومت نے مفاہمت کی طرف قدم بڑھادیا اب پی ٹی آئی کو قدم بڑھانا ہے۔سلیم صافی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی وزراء کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی، حکومت کو انہیں ریلیف دینا ہے تو ان کیخلاف درج کیسز بھی واپس لے لے۔