اسلام آباد(ر انامسعود حسین)شہداء فورم بلوچستان نے سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں استدعا کی ہے دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، سوشل میڈیا پر دہشتگردی کے فروغ وتشہیر اور جعلی خبروں کو روکنے کیلئے قانونی سازی کی جائے،لاپتا افراد کے نام پر پروپیگنڈا کرنے اوردہشت گرد وں کو پروپیگنڈا کے طور پر لاپتہ افراد کی فہرست میں شمار کروانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہےکہ پولیس کے ساتھ ساتھ قانونی اور عدالتی اصلاحات ، پولیس آرڈر 2002پر عملدرآمد یقینی ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے زیر التوا دہشتگردی کے تمام مقدمات کے ٹرائل کو فوری مکمل کروایا جائے۔ درخواست گزار وشہدا فورم بلوچستان کے پیٹرن ان چیف، نوابزادہ جمال رئیسانی نے منگل کے روزحافظ احسان کھوکھر ایڈوکیٹ کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت دائر کی گئی دخواست میں وفاقی حکومت کو بذریعہ وزارت قانون ،دفاع اور داخلہ جبکہ چاروں صوبائی حکومتوں کو متعلقہ چیف سیکرٹریوں کے ذریعے فریق بناتے ہوئے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان 2014پر عمل درآمد یقینی بنانے کی استدعا کی ہے۔ دائر آئینی درخواست میں استغاثہ کوایک مضبوط اور عالمی معیار کا نظام قائم کرنے،گواہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرنے ،شہدا ء کے بچوں کے لئے مفت تعلیم اور تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر مربوط عملدرآمد نہ ہونے کی بناء پر دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیوں سمیت دیگر بنیادی حقوق بری طرح متاثر ہورہے ہیں ،درخواست گزار نے کہا ہے کہ پاکستان کو غیر ملکی فنڈڈ منظم دہشت گردی کا سامنا ہے اور اب تک اس کی وجہ سے 80ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو 150ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے،درخواست میںمزید کہا گیا ہے کہ وطن عزیز میں دہشت گرد اور غیر ریاستی ملک دشمن عناصر بدستور سرگرم ہیں اور ہر گزرتے دن دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے ،صرف رواں سال کی پہلے سہ ماہی میں دہشت گردی کے 465حملے ہوئے ہیں جن میں 122سکیورٹی اہلکار اور 95 شہری جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 2023بدترین سال رہا ہے جس میں مسلح افواج کے 500اہلکار شہید ہوئے ہیں،درخواست گزار کے مطابق دہشت گردی کے ان واقعات کی وجہ سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے اور تجارتی سرگرمیاں ختم ہوکر رہ گئی ہیں، آئین کے آرٹیکل ہاء 9,14,15 ,16 ,17, 18 اور25کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق بری طرح متاثر ہورہے ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحد کی وجہ سے صوبہ خیبر پختونخوا ء اور بلوچستان سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہورہے ہیں اور ان دو صوبوں میں مجموعی دہشت گردحملوں کے 92واقعات رونما ہوئے ہیں،درخواست میں 2018سے لیکر2024تک کے دہشت گردی کے واقعات اور ان میں ہونے والی جانی نقصانات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2023میں دہشت گردی کے 1514واقعات رونماہوئے جن میں 572سکیورٹی اہلکار اور 358سویلین شہری جبکہ مجموعی طور پر 930افراد لقمہ اجل بنے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 16دسمبر 2014کو آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان تیار کرکے 24دسمبر کو پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دی تھی لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اتفاق رائے سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا گیا ،جس کی وجہ سے دہشت گردی مزید بڑھ گئی ہے ۔
اسلام آباد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جی-7 اجلاس کے بعد دیے گئے بیانات کے اثرات کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں...
اسلام آباد حکومت نے ملک بھر میں بجلی کے بلوں کا فارمیٹ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صارفین کے لیے انہیں...
کراچی امریکہ کا بڑا اسٹریٹجک یوٹر، انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل، بھارت کی اہمیت میں کمی؟ امریکی فوجی...
لاہور پنجاب بجٹ : امن و امان اور انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے اربوں روپے مختص۔فرانزک سسٹم، چیک پوسٹس اور اے...
کراچی فارن پالیسی میگزین کا کہنا ہے ایران جنگ میں کوئی فاتح نہیں، سب ہار گئے، امریکہ اور اسرائیل کی عسکری...
اسلام آبادحکومت کا ارادہ ہے کہ وہ آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر 23.378 ارب ڈالر کا قرضہ لے گی مالی سال 2026-27...
دبئی اسرائیلی جاسوسوں کو چکما، پاکستانی حکمت عملی کامیاب،ہاتھوں سے لکھے خطوط نے امریکا ایران معاہدہ محفوظ...
کراچی پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لئےفضائی پابندی میں مزید توسیع کر دی۔