عمران کارویہ انتہائی متکبرانہ ، مذاکرات کا فائدہ نہیں ہوگا،رانا تنویر

24 اپریل ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ عمران خان کا رویہ انتہائی متکبرانہ ہے مذاکرات کا فائدہ نہیں ہوگا، عمران خان کے رویے میں تبدیلی کے بعد ہی مذاکرات کا سوچا جاسکتا ہے،پی ٹی آئی ہر وہ کام کرتی ہے جس سے ملک کو نقصان پہنچے، تحریک انصاف احتجاج کرے مگر اس میں شدت نہیں ہوگی، سیاسی جماعتوں میں مذاکرات جمہوری عمل کا حصہ ہے، تحریک انصاف کے سینئر رہنما حامد خان نے کہا کہ آئین کی بحالی کیلئے جمعہ سے ملک گیر تحریک شروع کررہے ہیں، یہ تحریک آئین کی سربلندی اور سرفرازی کیلئے چلائی جارہی ہے، پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وکلاء اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے، وکلاء آئین کے سب سے بڑے سپاہی ہیں وہ ہمیشہ آئین کی سربلندی کیلئے کام کریں گے، پارٹی کے اندرونی اختلافات تحریک کے دوران مسئلہ بنیں گے، پارٹی چیئرمین پابند سلاسل ہیں ان کی طرف سے واضح پیغامات نہیں مل پاتے،عمران خان ڈیل کرلیں تو رہا ہوجائیں گے مگر انہیں سیاسی نقصان پہنچے گا، عمران خان جب تک سیاست میں فوج کی مداخلت کیخلاف رہیں گے ،لوگوں میں مزید ہردلعزیز ہوں گے، ہائبرڈ نظام بنا کر ملک نہیں چلایا جاسکتا، عدلیہ اس وقت مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں کے ساتھ ہے۔وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ آٹھ فروری کے انتخابات صاف و شفاف تھے، شیخوپورہ میں انتخابات صاف و شفاف تھے، جاوید لطیف سے ہمدردی ہے وہ جیت جاتے تو اچھا ہوتا، ، جاوید لطیف کو 90کروڑ روپے لینے اور دینے والوں کے نام بتانے چاہئیں، جاوید لطیف کی تمام باتیں غلط ہیں انہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں،یہ درست نہیں کہ جاوید لطیف نواز شریف کی مرضی سے تمام باتیں کرتے ہیں،تحریک انصاف کے سینئر رہنما حامد خان نے کہا کہ آٹھ فروری کے انتخابات میں نتائج سے اسٹیبلشمنٹ سرپرائز ہوگئی تھی، ،ضمنی انتخابات کیلئے انہوں نے پہلے سے تیاری کی ہوئی تھی، اس دفعہ کوئی چانس نہیں لیا گیا اور بیلٹ باکسز پہلے سے ہی بھردیئے گئے ،جے یو آئی ف اور ہمارے مقاصد ایک ہوئے توا کٹھے ہوتے ہیں ، وکلاء پر الزامات لگانے والے عمران خان کی خدمت نہیں کررہے، الزامات پر وکلاء مایوس ہوجائیں گے جس کا نقصان عمران خان اور پارٹی کو ہوگا ، آٹھ فروری کے دھاندلی زدہ الیکشن کے بعد بننے والی پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ نہیں ہے، میری اطلاع کے مطابق وزیراعظم اپنا قومی اسمبلی کا الیکشن ہارے ہوئے ہیں، ہماری اطلاعات اور فارم 45کے مطابق مریم نواز بھی اپنی نشست ہاری ہوئی ہے، نواز شریف تو یاسمین راشد سے بری طرح ہارے ہوئے ہیں۔