ہمارے ایک جیولین تھرو کے کھلاڑی ہیں محمد یاسر سلطان، اپنے کھیل میں پاکستان میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ایشیائی کھیلوں میں کانسی کا تمغہ جیت چکے ہیں، اور اس وقت پیرس اولمپکس کے لیے کوالی فائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ اولمپکس کی تیاری کر رہے ہیں مگر ان کے پاس جیولین (نیزہ)نہیں ہے، وہ جیولین کے بغیر ہی تیاری کر رہے ہیں، یعنی بس ورزش کرتے ہیں، دوڑتے بھاگتے ہیں، اور جیولین تھرو مقابلوں کی وڈیوز دیکھتے ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ یقین صورتِ حال ہے، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کرکٹ میں ایک بیٹس مین بغیر بلّے کے ورلڈ کپ کی تیاری کر رہا ہو، بغیر بلّے کے کور ڈرائیو، ہُک، پُل کی پریکٹس کر رہا ہو؟ یاسر سلطان کے پاس جیولین کیوں نہیں ہے، اُسے ٹریننگ کیمپ میں ایتھلیٹس کا مخصوص کھانا تو کجا نان چنے بھی کیوں نہیں ملتے، اور اس طرح کے بہت سے سوالات کا جواب جاننے میں ہماری دل چسپی نہیں ہے، یہ تو ہم سب کو معلوم ہے۔ اس سلسلے میں ہماری حکومت سے بس ایک ہی درخواست ہے،بلکہ ہم حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ یاسر سلطان کو گرفتار کر کے ایک جے آئی ٹی کے سامنے پیش کیا جائے، اور اُس سے یہ اُگلوایا جائے کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچا ہے؟ بلا شبہ، یاسر پورے نظام کو چکمہ دے کر اولمپکس کی سطح تک آیاہے، اور یہ کوئی چھوٹا موٹا جُرم نہیں ہے۔ لگے ہاتھوں ارشد ندیم سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے جو پورے سسٹم کو دھوکا دے کر 2022 کی کامن ویلتھ گیمز میں جیولین تھرو کا گولڈ میڈل جیت گیا تھا۔کچھ ایسے ہی سلوک کی حق دار ہماری قومی ہاکی ٹیم بھی ہے جو پچھلے ہفتے اذلان شاہ ہاکی کپ کے فائنل میں جا پہنچی تھی۔
یہ صورتِ حال صرف جیولین تھرو کی نہیں ہے، صرف کھیلوں کی نہیں ہے، ہر شعبے کا لگ بھگ یہی عالم ہے۔ ہم ’جیولین‘ کے بغیر ہی اقوامِ عالم سے مقابلے کی تیاری کر رہے ہیں، اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔ معیشت سے معاشرت تک اور ثقافت سے سیاست تک، مثالیں ہی مثالیں ہیں۔ اس وقت دنیا میں آگے بڑھنے کا ایک ہی مسلمہ طریقہ ہے، اور وہ ہے ’علم‘ بلکہ یوں کہیے کہ سائنسی علم۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ایسے ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے جن کے ریسرچ پیپرز اشاعت کے بعد ہٹا دیے جاتے ہیں، اس میں پاکستانی محققین کے لکھے ہوئے مقالے دوسرے نمبر پر ہیں، سادہ لفظوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ چوری شدہ سائنسی مقالے چھاپنے میں پاکستان تقریباً دنیا بھر سے آگے نکل چکا ہے۔نہ تحقیق کے لیے مناسب فنڈز مختص کئے جاتے ہیں، نہ لیبارٹریوں کے لیے، اور اوپر سے انگریزی زبان کا جِن۔ پھر بھلا ہو مصنوعی ذہانت کا، جس نے کٹ پیسٹ تحقیق کو ہمارے ہاں مزید فروغ دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے جعلی تحقیق کرنے والے یہ حقیقت بھلا بیٹھے تھے کہ مصنوعی ذہانت ہی ان کی چوری پکڑ بھی سکتی ہے، سو پکڑی گئی۔ ایک فقرے میں، بس یوں سمجھیے کہ علمی دنیا میں بھی ہم ’جیولین‘ کے بغیر ہی مقابلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ’’مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘ کی یہ تشریح سیدھی سیدھی خود کشی ہے۔
ملکی سیاست پر نظر ڈالیں تو کچھ ایسی ہی تصویر ابھرتی ہے، ویسے تو سب سیاسی جماعتوں کی لگ بھگ ایک سی حالت ہے لیکن اس وقت عمران خان کی مثال سے بات سمجھی جا سکتی ہے۔ عمران بھی ’جیولین‘ کے بغیر ایک ایسے مقابلے کی تیاری کر رہے ہیںجس میں ان کی جیت کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ بات ذرا پیچھے سے شروع کرتے ہیں۔ نو مئی کو عمران خان نے now or never کا نعرہ بلند کیا تھا، یعنی تخت یا تختہ۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ طاقت کا کھیل ہے، صرف اور صرف طاقت ہی فاتح کا فیصلہ کرے گی۔ لہٰذا، تیاری پوری کی گئی تھی،جو کچھ ہمیں پردے پر نظر آ رہا تھا وہ آدھا منظر تھا، پسِ پردہ بغاوت کی جُزیات تک طے کی گئی تھیں۔ اور کامن سینس بھی یہی کہتی ہے کہ کامیاب ’بغاوت‘ کے لیے عساکر کو تقسیم کرنا ضروری ہوا کرتا ہے، عالمی تاریخ کی بھی یہی گواہی ہے، ترکیہ میں عوام کے ٹینکوں کے آگے لیٹنے کے جو قصے ہم سنتے ہیں ان کا اصل بھی یہی ہے کہ ترکیہ میں عساکر تقسیم ہو گئے تھے۔ سادہ لفظوں میں نو مئی کو عمران خان سمجھ رہے تھے کہ اُن کے ہاتھ میں ’جیولین‘ ہے، تیاری مکمل ہے، حالات سازگار ہیں۔ مگر سارے تخمینوں میں ایک کمی رہ گئی، تخمینہ یہ تھا کہ سارا ملک سڑکوں پر نکل آئے گا، ہر شہر میں لاکھوں اور کل ملا کے کروڑوں لوگ قومی اور فوجی عمارتوں کا گھیرائو جلائو کرنے کے لیے سرپر کفن باندھ کر اپنے اہداف پر پہنچ جائیں گے۔اور جب لوہا سُرخ ہو جائے گا تو اندر سے آخری ضرب لگائی جائے گی۔ لیکن لوگ توقع کے مطابق نہیں نکلے، اور ساری بازی ہی پلٹ گئی۔پرانے زمانے میں ناکام بغاوت کرنے والوں کے سر قلم کر دیے جاتے تھے، آج کل کے باغیوں کو عدالتوں کی ڈھال میسر ہوتی ہے۔
آج بھی فیصلہ کُن کردار ’طاقت‘ ہی ادا کرے گی، اب عمران خان کو عساکر کے اندر پہلے جیسی حمایت حاصل نہیں ہے، آج بھی عوام کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے، طاقت کا توازن آج بھی ان کے حق میں نہیں ہے۔سب سے بڑھ کر، عمران خان کی بے لچک شخصیت تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نواز شریف ہوں یا بے نظیر، سیاست دان اپنی طاقت کے مطابق کوئی راستہ نکالتا ہے، جیسے بُل فائٹ میں میٹاڈور نکالتا ہے، بھینسے کو جوابی ٹکر مارنا دیوانگی ہے، سیاست نہیں۔
ٰٓیاسر سلطان بغیر جیولین کے یہاں تک پہنچ گیا ہے، یہ بھی ایک کرشمہ ہے، لیکن اس طرح وہ اولمپکس نہیں جیت سکتا، دیکھ لیجیے گا۔
جمعیت! قوم کے بارے میں، مبادااقبالؔ کا یہ شعر حقیقت میں بدل جائے’’بیجاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے ڈریئے، خبرِ...
ضرورت……اقبال خورشیدرات ٹھیک دس بجے میرے دروازے پر دستک ہوتی۔باہر ایک فقیر کھڑا ہوتا، جس کی آنکھوں میں...
ہر سال بجٹ کی آمد کے ساتھ پاکستان میں ایک مانوس منظر دہرایا جاتا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں اعداد و شمار پیش...
شیدے گریجویٹ نے گوالمنڈی میں ملاں حلوائی کی دکان سے پیڑوں والی لسی پینے کے بعد سرخ رنگ کے مفلر سے وہ سفید...
ایلون مسک کی دولت ایک ہزار ارب ڈالر سے بڑھ گئی ہے ۔وہ مریخ اور چاند سمیت ہمسایہ اجرامِ فلکی مسخر کرنا چاہتاہے۔...
وہ بدحواس ہو چکاہے۔ اُسے یقین نہیں آ رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کیساتھ امن معاہدےپر راضی ہو چکا ہے۔ وہ بار بار...
پاکستان کی میزبانی میں ایران، امریکا معاہدہ اس وقت عالمی میڈیا میں چھایا ہوا ہے ایک طرف یہ کہتے ہوئے اس کی...
پچھلے ہفتے امریکا ایران معاہدہ بھی ہو گیا، بجٹ بھی آ گیا، یعنی قوم عزت اور خفت کی گنگا جمنا میں ڈوبتی ابھرتی...