پشاور الیکٹرک کمپنی میں بجلی چوری روکنے کیلئے پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، 3 سال میں چوری کی رپورٹ اسمبلی میں جمع

18 مئی ، 2024

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی( پیسکو) کو گزشتہ تین سالوں کے دوران کتنے لائن لاسز ( بجلی چوری ) کا سامنا کرنا پڑا،وزیر بجلی سردار اویس خان لغاری نے قومی اسمبلی سیکر ٹریٹ میں جمع تحر یری رپورٹ میں سب بتادیا، سید شاہ احد علی شاہ کے سوال کے تحر یری جواب میں وزیر بجلی نے بتایا کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں بجلی چوری روکنے کیلئے پیٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں 2021-22 میں پیسکو میں 35اعشاریہ 99 فیصد،2022-23 میں 36اعشاریہ 46 فیصد ، 2023-24 میں اپریل 2024تک 34 اعشاریہ 80فیصد لائن لاسز ہوئے، جولائی 2021 سے جون 2022 کے دوران پیسکو میں چوری کے 4 لاکھ 55 ہزار 901 مقدمات درج کئے گئے ان ملزموں نے 33کروڑ64 لاکھ 34ہزار یونٹ بجلی چوری کی،جولائی 2022سے جون 2023 کے دوران پیسکو میں چوری کے 4 لاکھ 83 ہزار 50 مقدمات درج کئے گئے ان ملزموں نے 31 کروڑ 22 لاکھ دوہزار یونٹ بجلی چوری کی، جولائی 2023 سے اپریل 2024 کے دوران پیسکو میں چوری کے دو لاکھ 89 ہزار 427 مقدمات درج کرائے گئے ان ملزموں نے 14کروڑ69 لاکھ 12ہزار یونٹ بجلی چوری کی،اویس لغاری نے جواب میں بتایا کہ بجلی چوری کو روکنے کیلئے تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں ( ڈسکوز ) میں مہم جاری ہےپشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں بجلی چوری روکنے کیلئے پیٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں پرانے اور نقص زدہ میٹرز تبدیل کئے جا رہے ہیں، کمرشل ‘ صنعتی اور ٹیوب ویلز کنکشن کیلئے آٹومیٹڈ میٹر ریڈنگ اور ایڈوانس میٹرنگ انفراسٹرکچر لگایاجا رہا ہے کنڈا روکنے کیلئے اے بی سی کیبل لگائی جا رہی ہے،بجلی چوروں کیخلاف ایف آئی آر زدرج کرائی جا ر ہی ہیں بجلی چوروں کی بجلی کاٹ کر میٹر اتارے جا رہے ہیں انہیں ڈیٹیکٹڈ بل بھیجے جا رہے ہیں یاد رہے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کہتے ہیں کہ انکے صوبے کے لوگوں کو بجلی چور نہ کہا جا ئے ۔