جمخانہ کلب کی اربوں روپے کی اراضی 5500روپےماہانہ لیز پر دینے کی معلومات افشاء کروائی گئی

18 مئی ، 2024

لاہور(آصف محمود بٹ ) سابق چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب سید محبوب قادر شاہ نے کہا ہے پنجاب اسمبلی میں زیر بحث جمخانہ کلب لاہور کی اربوں روپے مالیت کی 117ایکڑ قیمتی کمرشل لینڈ محض 5500روپےماہانہ لیز پر دیئے جانے کی معلومات پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013کے تحت افشاء کروائی گئی ۔ ان معلومات کے افشاء کو روکنے کے لئے پنجاب انفارمیشن کمیشن پر شدید دبائو ڈالا گیا لیکن انہوں نے میرٹ پر فیصلہ کرنے کو ترجیح دی۔ ’’جنگ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ و چیف انفارمیشن کمشنر محبوب قادر شاہ نے کہا کہ انفارمیشن کمیشن نے جمخانہ کلب لاہور کیس میں جاری فیصلے میں تحریر کیا کہ اربوں روپے کی کمرشل اراضی صرف 5500روپےماہانہ لیز پر عوام الناس کا پیٹ کاٹ کر بیوروکریسی اور اشرافیہ کے لوگوں کی اچھی شام گذارنے کے لئے دی گئی لہذا عوام الناس رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ اور آئین کے آرٹیکل 19Aکے تحت یہ معلومات جاننے کا بنیادی حق رکھتے ہیں ۔ انفارمیشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ حکومت نے مذکورہ لیز 1912ء کے کالے قانون The Punjab Colonisation Act 2012کے تحت دی۔ کمیشن نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ اس قانون میں قومی تقاضوں کے مطابق ترمیم کی ضرورت ہے۔ سابق چیف انفارمیشن کمشنر نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں رائٹ ٹو انٖفارمیشن ایکٹ کے تحت صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنروں سے ان کے اضلاع میں بنائے جانے والے جمخانہ کلبز کی تفصیلات مانگیں تو اکثر ڈپٹی کمشنروں نے ٹال مٹول سے کام لیا ۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ جمخانہ کلب کے 1200ممبران میں صرف 50سرکاری افسر ہیں۔ سرکاری افسران کے کلبز علیحدہ رکھے گئے تھے کہ وہ کاروباری اور سرمایہ داروں کے ساتھ اکٹھے نہ بیٹھیں اور افسران کے انتظامی معاملات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔