لیوپس موذی مرض، قوت مدافعت متاثر کرتا ہے،بروقت تشخیص ضروری ،میرخلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کا سمینار

19 مئی ، 2024

لاہور(رپورٹ حرا بتول)صوبائی وزیر صحت برائے پرائمری اینڈی سیکنڈری ہیلتھ خواجہ عمران نےکہا ہے کہ لیوپس ایسی بیماری ہے جس میں قوت مدافعت کا نظام متاثر ہوتا ہے اور یہ مرض جلد، جوڑ،گردے اور دیگر اعضاء پر اثر اندازکرتی ہے۔ ایسی موذی بیماری سے بچنے کیلئے ہم جلد اقدامات اور پروگرامز بنائیں گے ہمارا ہیلتھ سسٹم بہت زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ ہم ہیلتھ کارڈ کے پروگرامز کو مزید بہتر کرنے جا رہے ہیں تاکہ مستحق لوگ صحت سے متعلق تمام سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی (جنگ گروپ آف نیوز پیپرز) اور آرتھرائٹس کیئر فائونڈیشن کے زیر اہتمام خصوصی ہیلتھ سیمینار بعنوان ’’آگاہی پروگرام برائے لیوپس‘‘ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرتھرئٹس ایک ایسی بیماری ہے جو کہ ہر کسی کو ہو سکتی ہے اور اگر یہ شدت اختیار کر جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے اس لئے جب اس کی علامات ظاہر ہوں تو صرف دوماٹولوجسٹ کے پاس ہی جائیں اس مرض پر قابو پانے کے لئے ہمیں 2ہزار ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔اسکی ادویات اور ٹیسٹ بہت مہنگے ہیں جن کی قیمتیں کم ہو نی چاہئیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سعیدنے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد ان لیوپس کے مریضوں کی ہے 2سو ایک خاتون ضرور اس مرض میں مبتلا ہوتی ہے اور جس میں یہ مرض شدت اختیار کر جائے تو جسم کا ایسا کوئی بھی حصہ نہیں جو اس سے متاثر نہ ہو۔ پروفیسر ڈاکٹر سمائرہ فرمان راجہ نے کہا کہ جیسے شوگر جسم کے ہر اعضا کو متاثر کرتی ہے اس طرح یہ بھی جسم کے ہر حصے کو متاثر کرتی ہے اس لئے اس کی آگاہی کی بہت ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سائرہ امین انور خان نے کہا کہ ایک وقت تھا جب خواتین اس مرض میں مبتلا ہوتی تھیں ان کو حمل سے منع کیا جاتا تھا مگر اب اگر اس مرض کی شدت زیادہ نہیں ہوتی تو اس مرض میں خواتین بچہ پیدا کر سکتی ہیں۔ڈاکٹر بلال عظیم بٹ نے کہا کہ لیوپس ایک پیچیدہ اور خطرناک مرض ہے جو لوگ لیوپس کا صحیح سمت میں علاج نہیں کراتے جس سے مریض مزید پیچیدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد فائق نے کہا کہ بروقت تشخیص سے اس کا علاج آسان ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد رفاقت حمید نے انسانی اعضا کا سب سے بڑا حصہ سکن ہےاور لیوپس زیادہ تر سکن اور بالوں پر اثر انداز ہوتی ہے جلد کو دھوپ سے ضرور بچائیں ۔ ڈاکٹر ضیاء سیف نے کہا کہ اس مرض سے صحت یاب ہو بھی جائیں پھر بھی ڈاکٹرز کو باقاعدگی سے چیک کروا ئیں کیونکہ صحت یابی کے بعد بھی یہ مرض دویارہ ہو سکتا ہے۔