چمن دھرنا ‘ فریقین کی بداعتمادی‘ مسئلہ گمبھیر‘ اپوزیشن اتحاد کا احتجاج کا اعلان

19 مئی ، 2024

چمن(نورزمان اچکزئی) چمن بارڈر مسئلہ فریقین کی بداعتمادی نے مزید گمبھیر بنادیا،مسئلے کے حل کے لئے جوبھی قدم اٹھایاجاتاہے تو وہ نیا تنازع بن جاتاہےاور فریقین نئے تنازع کو حل کرنے میں لگ جاتےہیں ۔گزشتہ ہفتے وزراء کمیٹی کے دو روز تک مسلسل مذاکرات کےبعدواپس کوئٹہ جاتے ہوئے وزیرداخلہ میرضیاء لانگو نے مثبت پیشرفت کا اظہار کیا تو اسی دوران دھرنا کمیٹی نےحکومتی ڈیمانڈز کو ڈیڈلاک بتا کر مذاکراتی عمل کو ناکام قرار دیامگر وزیراعلیٰ میرسرفراز بگٹی نے پہلے ہی سے چمن جانے اور وزراء کمیٹی کے مذاکراتی عمل سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے بعد بھی چمن جانے کا اعلان کیا مگر وزیراعلیٰ کی چمن آمد میں فریقین کے ڈیمانڈز نے ایک نیا مسئلہ بنا دیااور تاخیر نے ایک اور تنازع بھی کھڑا کردیاہے۔ حکام کے مطابق مقامی انتظامیہ وزیراعلیٰ کی آمد سےقبل قومی شاہراہیں کھولنے، چمن کےداخلی وخارجی راستوں کا محاصرہ ختم کرکے بینک اور دیگر دفاتر سے رکاوٹیں ہٹاکر دھرنا مظاہرین کو واپس دھرنا کے مقام پر منتقل کرنے کی صورت میں وزیراعلیٰ کے چمن آنے کے لئے گرین سگنل دے گی ،مگر اس مطالبے کو دھرنا کمیٹی نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے جب بھی دھرنے والوں نے پہل کی تو انہیں دھوکہ دیا گیا ۔ترجمان صادق اچکزئی کے مطابق وزراء کمیٹی کچھ دینے نہیں بلکہ لینے آئی تھی ۔اب جب وزیراعلیٰ آئیں تو ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمیں گلے لگائیں، ہمیں محب وطن قرار دیں اور مسئلے کو بتدریج حل کرنے کےلئے طریقہ کار طے کرکے ہمیں گارنٹی دیں کہ روزگار اور کاروبار کا کوئی مستقل حل نکالا جائے تب ہم دھرنے کو ختم کرنے پر غور کرسکتے ہیں، ،دوسری جانب 6جماعتی اپوزیشن اتحاد تحفظ آئین پاکستان نے کل پیر سے بین الصوبائی شاہراہیں بند کرکے ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے آج اتوار کو چمن بارڈر ایشو پر احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔یہاں چمن میں گزشتہ 14 روز سے کوئٹہ چمن شاہراہ کو مظاہرین نے بند کیا ہوا ہے،کوژک ٹاپ کے پہاڑی سلسلے میں 20کلومیٹر علاقے میں مال بردار ٹرکوں اور کنٹینرز کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔ دوسری جانب 4مئی کے واقعہ کے بعد مظاہرین نے پچھلے دو ہفتوں سے پاک افغان بارڈر ٹریڈ، کوئٹہ چمن شاہراہ کو بھی رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا۔ ضلع میں بنک بند ،اے ٹی ایم میں رقم ختم ہوگئی۔