روزانہ کی بنیاد پر گیس و بجلی بندش سے عوام تنگ آگئے‘ پشتونخوامیپ

19 مئی ، 2024

کوئٹہ ( پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ گیس وبجلی کی روزانہ لوڈشیڈنگ قابل مذمت ہے ،سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے سوشل میڈیا پر روزانہ گردش کرنے والے نوٹیفکیشن اور گیس کی بندش سے عوام تنگ آچکے ہیں، اپریل میں بھی صارفین کو گیس میسر نہیں ، بجلی کی بندش کے باعث شہر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے ، اکثرعلاقوں میں ٹینکرز مافیا کا راج ہے۔حکومت گیس ، بجلی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے ،شہر میں لاقانونیت ، بدامنی ، چوری ، ڈکیتی کی وارداتیں ، سرعام منشیات فروشی جاری ہے۔ پولیس تھانوں میں متاثرین ، شہریوں کے مسائل سننے ، جرائم کے واقعات کی ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے انہیں مایوس کن جواب دیکر واپس بھیج دیا جاتا ہے ۔ جرائم میں ملوث عناصر پولیس کی گرفت سے کسی صورت آزاد نہیں ، گزشتہ سال کے سیلاب کے بعد ہنہ اوڑک کا روڈ اب تک نہ بن سکا ،مکین شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ ہنہ اوڑک میں آج بھی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔جناح روڈ ، منان چوک تا کبیر بلڈنگ سمیت مختلف علاقوں میں سورج ڈھلتے ہی فحاشی کے اڈے قائم ہوتے جارہے ہیں ، غیر اخلاقی ، فحاشی کے دھندے میں ملوث عناصر کے خلا ف ضلعی انتظامیہ اور پولیس بے بس ہے ، جناح روڈ پر نہ صرف عام شہری بلکہ تاجر ،دکاندارمتاثر ہیں ۔ اس دھندے کی روک تھام کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں۔ ۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوامیپ ضلع کوئٹہ کے تحصیل صدر ، تحصیل کچلاغ کے اجلاسوں سے صوبائی نائب صدر ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری شراف آغا،تحصیل صدر کے سیکرٹری نعیم پیر علیزئی اور تحصیل کچلاغ کے سیکرٹری ملک نادر کاکڑنے خطاب کیا ۔ اجلاس میں صوبائی آفس سیکرٹری ملک عمر کاکڑ، صوبائی رابطہ سیکرٹری گل خلجی ، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری حضر ت عمر ایڈووکیٹ، نظام عسکر ، حفیظ ترین ، اقبال بٹے زئی ، ضلع کوئٹہ کے سینئر معاونین سعید خان کاکڑ، جمشید خان دوتانی ، ولی بریالی ، نصیر احمد کاکڑ ، ضلع ایگزیکٹوز وضلع کمیٹی کے ارکان ،تحصیل صدر کے سینئر معاون سیکرٹری راحت بازئی ، تحصیل کچلاغ کے سینئر معاون سیکرٹری رحمت ناصر اورکمیٹی کے دیگر ارکان نے شرکت کی ۔درایں اثناء پشتونخوامیپ کے صوبائی بیان میں کوئٹہ شہر میں فورسز کی تربیتی مشقوں کے دوران عوام کوہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سرہ غوڑگئی، کلی شبک ، کلی سرہ خولہ ، کلی ملاخیل واطراف میں مختلف اوقات میں تربیتی مشقوں کے دوران مذکورہ بالا علاقوں کی مقامی آبادی شدید متاثر ہے ۔ یہ زمین جو مقامی قبائل کی ملکیت ہے لیکن ستم ظریفی عوام کو اپنی پدری جائیدادوں اور زمینوں سے محروم کیا جارہا ہے ۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ ان زمینوں کو مقامی قبائل کی ملکیت تسلیم کرتے یہاں سے ٹریننگ رینج کو منتقل کیا جائے ۔