گیس ٹیرف کیلئے WACOG فارمولے کے نفاذ کی کوششیں ناکام

19 مئی ، 2024

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)گیس ٹیرف کیلئے WACOG فارمولے کے نفاذ کی کوششیں ناکام، وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے فارمولے کی مخالفتآئین کے خلاف قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزارت توانائی کے ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ مقامی اور درآمدی آر ایل این جی کو ملا کر گیس کے نرخوں کا سال میں دو بار تعین کرنے کے لیے گیس کی وزنی اوسط لاگت (ڈبلیو اے سی او جی) فارمولے کو نافذ کرنے کی حکومت کی کوششیں ناکام ہو گئیں جیسا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے زور دیا کہ حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جو آئین کے خلاف ہو بلکہ دلیل دی کہ آئین کے آرٹیکل 158 پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سے قبل 17 اپریل 2024 میں 11 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں وزیر پیٹرولیم بطور کنوینر، وزیر برائے بجلی، وزیر برائے صنعت، سیکریٹری پاور ڈویژن، سیکریٹری صنعت و پیداوار اور کیپٹن (ر) محمد محمود بطور ممبر شامل تھے۔ چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز بھی کمیٹی کے ممبر ہوں گے جبکہ سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر کام کریں گے۔ کمیٹی کو گیس ٹیرف میں ڈبلیو اے سی او جی کے مثبت اور منفی مضمرات کے ساتھ متعارف کرانے کے بارے میں اپنے نتائج اور سفارشات وزیراعظم کو رپورٹ کرنے کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا تھا۔ اس وقت اوگرا گھریلو شعبے کے صارفین کے لیے قدرتی گیس کے ٹیرف اور پاور سیکٹر کے لیے ایل این جی کی قیمت الگ سے طے کرتی ہے۔ وفاقی حکومت بنیادی طور پر پنجاب میں صنعتی (برآمد اور نان ایکسپورٹ) سیکٹر، اعلیٰ درجے کے گھریلو صارفین اور آر ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹس کے لیے گیس ٹیرف کو کم کرنے کے لیے ڈبلیو اے سی او جی کا نفاذ چاہتی ہے۔ تاہم کمیٹی کے پہلے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے مرکزی حکومت کی جانب سے ڈبلیو اے سی او جی کو نافذ کرنے کی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 158 کی سراسر نفی ہوگی۔ سندھ کا موقف ہے کہ آر ایل این جی کی درآمد احاطہ بندی ٹیرف انتظامات کے تحت صرف قدرتی گیس کے صارفین کے ٹائر ٹو زمرے کے لیے ہے اور ڈبلیو اے سی او جی بیس ٹیرف کے تحت قدرتی گیس کے موجودہ ٹائر ون صارفین درآمدی آر ایل این جی کی زیادہ قیمت کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ کے پی کے اور بلوچستان نے بھی اس کی مخالفت کی۔ آرٹیکل 158 واضح طور پر کہتا ہے کہ جس صوبے میں گیس پیدا ہوتی ہے اسے استعمال کرنے کا پہلا حق حاصل ہوتا ہے اور اس کے بعد بچ جانے والی گیس کو اس صوبے میں پہنچایا جائے گا جہاں گیس کم پیدا ہوتی ہے یا پیدا نہیں ہوتی۔ دیگر وفاقی اکائیوں کا خیال ہے کہ ان کے پاس اپنی ضروریات کے لیے گیس کی وافر پیداوار ہے لیکن ان کی گیس کم قیمت پر خریدی جا رہی ہے لیکن زیادہ قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہے۔