ہم تودو بار مارشل لا لگانے والے کا بھی احتساب نہ کرسکے،عرفان صدیقی

19 مئی ، 2024

اسلام آباد(جنگ نیوز) ن لیگ کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہہم تو اس شخص کا بھی احتساب نہیں کرسکے جس نے پاکستان کو دو مرتبہ مارشل لاء کی نذر کیا، اسے سزائیں بھی ہوئیں مگر ہم اسے ایک دن کیلئے بھی جیل میں نہیں ڈال سکے، ہم پتا نہیں کسی اور کا احتساب کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں یا نہیں ہیں،بشکیک میں موجود پاکستانی طالبعلم حامد طارق نے بتایا کہیہاں کنٹرول صورتحال صرف مقامیوں کیلئے ہے ہمارے لیے نہیں ہے،،بشکیک کی پراپرٹی مارکیٹ کا غیرملکیوں اور غیرملکی طلباء پر بڑا انحصار ہے اس لیے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ غیرملکی طلباء یہاں سے واپس جائیں،کرغزستان میں پاکستانی سفیر حسن علی ضیغم نے بتایا کہکرغز حکومت غیرملکی طلباء کی وجہ سے 100ملین ڈالرز سالانہ کماتی ہے جو اس چھوٹی سی اکانومی کیلئے بڑا ذریعہ ہے، جیو کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئےن لیگ کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابقرانا ثناء اللہ ایک ذمہ دار شخصیت اور وزیرعظم کے سیاسی مشیر ہیں ہیں انہوں نے اگر یہ بات کی ہے کہ اداروں میں تناؤ پر وزیراعظم صدر صاحب کو خط لکھیں گے تو ان کے پاس یقینا معلومات ہوں گی، اصولی طورپر یہ بات درست ہے کہ اس طرح کے تنازعات انصاف و قانون کے معیار پر پرکھے جائیں اور تحقیق و تفتیش کی باریکیوں میں جایا جائے تو یہ مسائل حل نہیں ہوتے،چھ جج صاحبان کی شکایات جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی شکایات سے ملتی جلتی ہیں، اس معاملہ کو سپریم جوڈیشل کونسل دیکھے یا صدر مملکت بھی تمام اداروں کے بڑے ہونے کے ناطے اس کا کوئی حل نکال سکتے ہیں۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ جو معاملات ہوئے شاید ہی کسی دوسرے لیڈر کے ساتھ ہوئے ہوں گے، ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تو ظلم عظیم ہوا انہیں پھانسی چڑھادیا گیا، ہر محب وطن چاہتا ہے جن لوگوں نے یہ کیا ان کا احتساب ہونا چاہئے لیکن عملاً نہیں ہوپایا، ہم تو اس شخص کا بھی احتساب نہیں کرسکے جس نے پاکستان کو دو مرتبہ مارشل لاء کی نذر کیا، اسے سزائیں بھی ہوئیں مگر ہم اسے ایک دن کیلئے بھی جیل میں نہیں ڈال سکے، ہم پتا نہیں کسی اور کا احتساب کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں یا نہیں ہیں۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا خمیر ہی مذاکرات سے اٹھتا ہے، ملک بحرانوں سے نکل رہا ہے، مہنگائی نیچے جارہی ہے جی ڈی پی بہتر ہورہا ہے، انتخابی نتائج سے ناخوش جماعتیں بھی اس وقت اسمبلیوں میں آچکی ہیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار طلعت حسین نے کہا کہ رانا ثناء اللہ ڈائیلاگ کی بات پہلے بھی کرتے رہے ہیں، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت کا اس معاملہ میں کردار ادا کرنے کی بات نئی ہے، یہ بات دل کو بھاتی ہے مگر عملی طور پر یہ بیل منڈیر چڑھتی نظر نہیں آتی، سب چاہتے ہیں پاکستان میں دشنام طرازی ختم ہو لیکن سیاست کے موجودہ اسٹرکچر میں یہ ممکن نہیں ہے، اس اسٹرکچر کو توڑے بغیر نظام میں بہتری نہیں لائی جاسکتی، جس وزیراعظم نے صدر کو ایڈوائس کرنی ہے اس کی اپنی کابینہ کے ارکان جج صاحبان کے بارے میں پریس کانفرنسیں کررہے ہیں، صدر آصف زرداری کیسے اس جنجال پورہ کو بائی پاس کر کے کوئی بائی پاس بناپائیں گے، کیا صدر مملکت وزیراعظم کی جماعت کو عمران خان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے کہیں گے؟، عمران خان کسی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہی نہیں ہیں، عمران خان سیاستدانوں سے بات کو تیار نہیں اور جن سے بات کرنا چاہتے ہیں انہیں روزانہ گالی دے رہے ہیں، عمران خان کہتے ہیں آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہم سے بات کرتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ انہیں فارغ کریں، چیف جسٹس ہمیں سہولت دیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ انہیں بھی فارغ کریں، تحریک انصاف کو غدار کہنے والے کیسے عمران خان کے ساتھ بیٹھیں گے۔ طلعت حسین کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کی کارروائی بلاتفریق ہونی چاہئے، ایک جماعت کے زعماء کو کھلی چھوٹ ہے وہ جس کی مرضی پگڑی اچھالیں، دوسری طرف سے جب پگڑی اچھالنے کی بات آئے تو عدالت نوٹس لے لیتی ہے، عدلیہ کا معاملہ توہین کی حد تک حل ہوتا نظر آرہا ہے لیکن سیاسی دنگل ختم ہوتا نظر نہیں آرہا، نواز شریف کا کیس عمران خان سے زیادہ تگڑا ہے، نواز شریف کے ساتھ ایک مرتبہ نہیں بہت مرتبہ ہاتھ ہوئے ہیں، نواز شریف کو باقاعدہ پلان کے ذریعہ نکالا گیا تھا، علی امین گنڈاپور کا بیان دیکھیں تو اس کے بعد آپ سوچ نہیں سکتے کہ فیڈریشن کا ایک یونٹ فیڈریشن کے ساتھ اچھے تعلقات رکھ سکے۔ بشکیک میں موجود پاکستانی طالبعلم حامد طارق نے کہا کہ کرغزستان میں غیرملکی طلباء کو دوبارہ حملے کا خطرہ ہے، ہمارے گھروں اور ہوسٹلز پر دوبارہ حملے کا قوی امکان ہے، آن لائن پلیٹ فارمز پر دکھایا جارہا ہے کہ لوگ دوبارہ جمع ہورہے ہیں، یہاں کنٹرول صورتحال صرف مقامیوں کیلئے ہے ہمارے لیے نہیں ہے، غیرملکی طلبہ کوئی چیز خریدنے کیلئے باہر دکانوں تک بھی نہیں جاسکتے، بشکیک میں ہمارے طلبہ اور ورکرز کو اپارٹمنٹس سے نکالا جارہا ہے، پاکستانی سفارتخانے کو کم از کم اپنے لوگوں کا خیال رکھنا چاہئے، ہماری رہائش اور کھانے پینے کا مسئلہ حل کیا جائے، پاکستانی سفیر معاملات سے لاعلم نظر آتے ہیں، پہلے انہوں نے کہا کہ تین یا چار پاکستانی طالب علم زخمی ہیں، انہیں پتا نہیں ہے یا وہ یہ بات چھپارہے ہیں کہ درجنوں طلباء شدید زخمی ہیں، ہمارے پاس ان لوگوں کو سڑکوں پر گھسیٹے جانے کی ویڈیوز موجود ہیں، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن پاکستانی ریاست کیسی ماں ہے کہ بارہ گھنٹے تک بچوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا رہا، بہنوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالے جارہے تھے، ان کے کمروں میں جاکر انہیں ہراساں کیا جارہا تھا لیکن ہماری ریاست سورہی تھی، وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں ہم طلبہ کا علاج کروائیں گے، ہم اپنا علاج خود کرواسکتے ہیں ہمیں یہاں سے نکالنے میں مدد کریں، ہمیں ایئرپورٹ تک محفوظ راستہ دیا جائے اور ہمارے لیے خصوصی پروازوں کا انتظام کیا جائے، کرغزستان میں تقریباً دس ہزار طلبہ ہیں انہیں سیکیورٹی فراہم کرنا بہت مشکل کام ہے، جب تک حملہ آوروں کو گرفتار کر کے سزائیں نہیں دلوائی جاتیں ہمیں کرغزستان سے نکالا جائے اور سمسٹر آن لائن کیے جائیں،کرغزستان میں پاکستانی سفیر حسن علی ضیغم نے کہا کہ بشکیک میں صبح چھ بجے کے بعد سے تشدد کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، بشکیک میں اس وقت صورتحال بظاہر نارمل ہے، تمام مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں پبلک ٹرانسپورٹ چل رہی ہے، پاکستانیو ں سمیت غیرملکی طلبہ یہاں پینک میں ہیں، کرغزستان کے نائب وزیراعظم اور نائب وزیرخارجہ سے میری بات ہوئی ہے، انہوں نے حکومت دلایا ہے کہ کرغز سیکیورٹی ایجنسیاں اس معاملہ کو اولین ترجیح کے طور پر دیکھ رہی ہیں، کرغزصدر اس صورتحال کو ذاتی طور پر مانیٹر کررہے ہیں، کابینہ نے کرغزسیکیورٹی اداروں کو تمام غیرملکی شہریوں بالخصوص انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کا تحفظ بنانے کی ہدایت کی ہے، کرغزستان میں پاکستانی کمیونٹی کو پاکستانی طلباء کی مدد کرنے کی درخواست کررہے ہیں، کسی کو رہائش کی ضرورت ہے تو پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ مل کر ان کی رہائش کا بندوبست کررہے ہیں، بشکیک کی پراپرٹی مارکیٹ کا غیرملکیوں اور غیرملکی طلباء پر بڑا انحصار ہے اس لیے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ غیرملکی طلباء یہاں سے واپس جائیں، کرغز حکومت غیرملکی طلباء کی وجہ سے 100ملین ڈالرز سالانہ کماتی ہے جو اس چھوٹی سی اکانومی کیلئے بڑا ذریعہ ہے۔