عدالتیں، لاپتہ افراد لواحقین ساتھ بیٹھیں مسئلہ حل ہوسکتا ہے، رانا ثناء

21 مئی ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عدالتیں اور لاپتہ افراد کے لواحقین ساتھ بیٹھیں تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے اس وقت ہر ادارہ یا ادارے میں بیٹھا فرد اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام نہیں کررہا، اس وقت دوسرے کے مینڈیٹ میں جاکر کام کرنے میں دلچسپی ہے، عدلیہ سے بھی بہت کچھ صحیح اور بہت کچھ غلط ہوتا رہا ہے، ایجنسیاں بھی دودھ کی دھلی نہیں ہیں،ماہر مشرق وسطیٰ امور کامران بخاری نے کہا کہ ایران ایک فوجی بالادستی والی ریاست کی طرف جارہا ہے جہاں آئندہ دنوں میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کرے گی کہ عہدے کس کو ملیں۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی اچانک موت کو ایران کی اندرونی سیاست کیلئے دھچکے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے شاعر احمد فرہاد سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی پر کہا ہے کہ ریمارکس اور ازخود نوٹسز سے بڑی خرابیاں پیدا ہوئی ہیں، جج صاحبان کا کام اس قسم کی تقاریر کرنا نہیں ہے، عدالتیں صرف سوال اٹھانے تک محدود ہوجائیں تو فیصلے کون کرے گا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو جب گردن سے پکڑ کر نکالا گیا اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں کیا ایجنسیوں کے لوگ بیٹھے تھے؟، رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ نواز شریف موجودہ صورتحال میں ہر طرح کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہمارے معاملہ میں سب کو پتہ ہے عدالتیں اور معزز ججز کہاں کھڑے تھے اور ان کے ریمارکس کیا ہوتے تھے،اس وقت ہر ادارہ یا ادارے میں بیٹھا فرد اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام نہیں کررہا، اس وقت دوسرے کے مینڈیٹ میں جاکر کام کرنے میں دلچسپی ہے، معزز جج محسن اختر کیانی نے جو ریمارکس دیئے، جج صاحبان کا کام اس قسم کی تقریر کرنا نہیں بلکہ فیصلے دینا ہے، اگر ان کے پاس ثبوت موجود ہیں تو فیصلہ بنائیں، احمد فرہاد کا اغوا افسوسناک ہے ہر صورت ان کی بازیابی ہونی چاہئے،احمد فرہاد کی گمشدگی کا مقدمہ درج ہونا چاہئے، عدالت کو آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان یہ سوال و جواب بہت مشکل صورتحال ہے، عدالتیں صرف سوال اٹھانے تک محدود ہوجائیں تو فیصلے کون کرے گا؟، ایک حاضر سروس جج نے ایجنسیوں پر سوال اٹھائے تو انہیں گردن سے پکڑ کر عدلیہ سے کس نے نکالا تھا؟،جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وقت جوڈیشل کونسل میں کیا ایجنسیوں کے لوگ بیٹھے تھے؟ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدلیہ سے بھی بہت کچھ صحیح اور بہت کچھ غلط ہوتا رہا ہے، ایجنسیاں بھی دودھ کی دھلی نہیں ہیں، سیاستدان بھی ہر کام قانون کے دائر ے میں نہیں کرکے گئے ہیں، آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو بیٹھیں اور ہر ادارہ اپنے دائرے میں رہ کر کام کرے، آج تک کتنی بار لوگ غائب ہوئے پھر واپس آگئے کسی عدالت نے اس پر سوال کیوں نہیں اٹھایا، عدالت نے کبھی واپس آنے والے افراد کو بیان ریکارڈ کروانے کیلئے کیوں نہیں بتایا۔