آسٹریلیا میں بھی سولر سے زیادہ بجلی پیدا کرنیوالوں کو حکومتی کارروائی کا سامنا

21 مئی ، 2024

نیو ساؤتھ ویلز/آسٹریلیا (پی پی آئی)آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز غیر معمولی تناسب سے شمسی توانائی پیدا کرکے گرڈ میں شامل کرنے پر بہت سے گھرانوں کو حکومت کی طرف سے کارروائی کا سامنا ہے۔ ریاست کے توانائی کے اداروں کا موقف ہے کہ گھروں میں بہت زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صورت میں گرڈ کی بجلی کی کھپت میں کمی سے لاگت میں اضافے کا مسئلہ کھڑا ہو رہا ہے۔توانائی پیدا کرنے والے ریاستی ادارے گھرانوں پر اضافی بجلی پیدا کرکے گرڈ میں ڈالنے پر فیس بھی عائد کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ چارجز گھٹانے کے طریقے بھی سامنے آئے ہیں۔ آسٹریلین انرجی ریگیولیٹر (اے ای آر) ان ریاستوں اور علاقوں کے معاملات کا جائزہ لے رہا ہے جہاں بہت بڑے پیمانے پر شمسی توانائی پیدا کرکے سسٹم میں ڈالنے کی صورت میں لاگت بڑھ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں بجلی کیلاگتی اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق حکومت نے اس ہفتے اعلان کیا ہے کہ تمام گھرانوں کو بجلی کے بلوں پر 300 ڈالر کا ریبیٹ ملے گا۔ اس کا مقصد لوگوں کو حکومتی بجلی کے استعمال کو ترجیح دینے پر مائل کرنا ہیآسٹریلیا میں 40 لاکھ گھرانوں کے پاس سولر پینلز اور ڈھائی لاکھ گھرانوں کے پاس بیٹریز بھی ہیں جن میں وہ سولر پینلز کے ذریعے حاصل شدہ توانائی کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ بجلی کی ذخیرہ کاری بڑھتی جارہی ہے کیونکہ بیٹری کی قیمت گر رہی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں اضافی بجلی پیدا کرنے پر کچھ وصول نہیں ہو پارہا۔ گھروں میں بجلی کی اضافی پیداوار سے لوگ اپنے بل کم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گرڈ پر پیداواری لاگت کے حوالے سے دباؤ البتہ بڑھ گیا ہے۔