سعودیہ سے ڈیل رئیسی کی بڑی کامیابی خامنہ ای کے جانشین ہوسکتے تھے

21 مئی ، 2024

اسلام آباد ( صالح ظافر) ایرانی صدر رئیسی کے دور حکومت میں ایران نے اپنے علاقائی حریف سعودی عرب کے ساتھ ایک اچانک ڈیل کا اعلان کیا جو ان کے دور حکومت کی ایک بڑی کامیابی تھی وہ آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی تصور کیے جاتے تھے اور انہیں خامنہ ای کے بعد ان کا جانشین بنائے جانے کا امکان بھی تھا۔ مغربی اخبارات نے ان کے دورحکومت کے حوالے سے اپنے مخالفانہ تبصروں میں ان کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دورحکومت میں تہران نے نہ صرف تقریباً ہتھیاروں کی سطح کا یورینیم افزودہ کرنا شروع کر دیا تھا بلکہ بین الاقوامی ایجنسی کے انسپکڑوں کو بھی محدود کردیا تھا۔ وہ ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی تصور کیے جاتے تھے۔ وہ 2021 کا صدارتی انتخاب جیت گئے تھے لیکن اس دوران ٹرن آئوٹ بہت کم رہا تھا۔ دوبارہ انتخاب میں روحانی کے بطور صدر انتخاب کے بعد آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں طاقتور کونسل کا رکن بنا دیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ بھی خیا ل کیاجاتا ہے کہ وہ 85 سالہ آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال کے بعد ان کے جانشین بن سکتے تھے۔ رئیسی کے دور حکومت کی سب سے بڑی کامیابی تعلقات خارجہ کے شعبے میں تھی اور یہ طویل عرصے سے سرد مہری کے شکار سعودی ایران تعلقات میں پیشرفت لانا تھا۔ رئیسی اسلامی جمہوریہ ایران کے آٹھویں صدر تھے اور امریکا نے 1988 کے آخر میں ایران عراق جنگ کے دوران ہزاروں سیاسی قیدیوں کے بڑی پیمانے پر سزائوں کے الزام میں ان پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ مغربی میڈیا کے مختلف اداروں کی رپورٹنگ میں ان سے دشمنی بہت نمایاں ہے جبکہ دنیا کے چند ایک رہنما بھی ہیں جنہوں نے مسلم دنیا کے اس مقبول رہنما کی شہادت پر موزوں انداز میں اظہار افسوس کرنے میں بھی تذبذب کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا ہیلی کاپٹر مشرقی آذربائیجان کے ورزقان اور جولفا علاقوں کے مابین سنگن کی تابنے کی کانوں کے گرد گر کر تباہ ہوگیا تھا ۔ یہ ایران کے صوبے مشرقی آذربائیجان میں ہے اور یہ مقام ایران کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک تبریز سے کوئی 100 کلو میٹر دور تھا۔