ترکیہ سے تجارتی حجم 5 ارب ڈالر سالانہ کی سطح پر لائیں گے، وزیراعظم

21 مئی ، 2024

اسلام اآ باد ( نیوز رپورٹر، نمائندہ خصوصی،نامہ نگار خصوصی ) وزیرِاعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین باہمی تعلقات کے فروغ پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کاحجم بہترین باہمی تعلقات سے ہم آہنگ نہیں ، آئندہ تین برس میں دونوں ممالک کے مابین تجارت کے حجم کو 5 ارب ڈالر سالانہ کی سطح پر لانے کیلئے کوششیں تیز کرینگے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہقان فدان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مختلف شعبوں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبے میں پاکستان کی جانب سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا،وزیرِ اعظم نےترک کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ہم ترک کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی صنعتوں کو منتقل کرنے کیلئے دعوت دے رہے ہیں، دونوں رہنمائوں نے عالمی و علاقائی حالات بالخصوص غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی گفتگو کی ،وزیرِ اعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی مشرق وسطی میں پائیدار امن کے قیام کیلئے غزہ میں مکمل جنگ بندی کی حمایت کی بھی تعریف کی اور مشرقِ وسطی میں مستقل امن کیلئے دو ریاستی حل کی کلیدی اہمیت پر زور دیا،وزیرِ اعظم نے ترک صدر کو پاکستان کا جلد دورہ کرنے کی دعوت دی، دریں اثناءنائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ تجارتی حجم بڑھا کر پانچ ارب ڈالرز تک لے جانا چاہتا ہے ،اس مقصد کے لیے جلد ان تجارتی تعلقات پر باقاعدہ اکنامک فریم ورک کی تیاری پر مذاکرات ہوں گے۔ہم ایک دوسرے کی سرحدی کے تحفظ اور دہشت گردی کے نمٹنے کے لیے مزید تعاون کو مضبوط کریں گے۔ اس موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے کہا کہ ’ہم نے فلسطینی بہن بھائیوں کی حالت زار پر بھی تبادلہ خیال کیا، ہم غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں ، ترکی اور پاکستان اسلام کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے ،دریں اثناء چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے ترکیہ کے وزیر خارجہ نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے بین الاقوامی اور علاقائی ا مور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ کہا کہ ترک تاجر پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔