نوجوانوں اور معیشت کو بچانے کیلئے تمباکو پر ٹیکس بڑھاناہوگا،مرتضیٰ سولنگی

23 مئی ، 2024

اسلام آباد(آئی این پی) سابق وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا ہے کہ نوجوانوں اور معیشت کو بچانے کے لیے تمباکو پر ٹیکس بڑھانا ہوگا۔انسدادتمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے تدارک کے لئے سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک )کے زیر اہتمام تقریب سے مرتضی سولنگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ نوجوانوں کی تعداد تمباکو نوشی کی لت میں پائی گئی ہے تاہم پاکستان میں تمباکو کنٹرول کے خلاف سخت اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے اس لت پر قابو پانے میں مددنہیں ملی،جس سے نوجوانوں کی صحت اور مستقبل انتہائی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ تمباکو اور نکوٹین کی لت نوجوانوں کی صحت کے سنگین مسائل کا سبب بن رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر تمباکو کی صنعت کی جانب سے نوجوانوں کو راغب کرنے کی کوششوں کو روکا نہ گیا تو مزید لوگ تمباکو نوشی میں ڈوب جائینگے اور اس سے ملک میں اموات اور بیماریوں میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو بڑے پیمانے پر انسدادتمباکو کے اہم چیلنج کا سامنا ہے، جس میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 31.9 ملین بالغ افراد ا س لت میں مبتلا ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت اور عالمی بینک دونوں نے مسلسل پاکستان کو تمباکو پر ٹیکس بڑھانے کی سفارش کی ہے۔اس موقع پر کنٹری ہیڈ کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز ملک عمران احمدنے کہا کہ مالی سال 2024-25 کے لیے ایف ای ڈی میں 26.6 فیصد اضافہ ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ اس سے نہ صرف صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں مدد مل سکتی ہے، بلکہ اس سے لاکھوں افراد کو تمباکو نوشی سے دوربھی رکھا جاسکتا ہے ۔