4 جولائی کو انتخابات ، الیکشن مہم شروع، دنیا خطرناک صورتحال سے دوچار، ہمارے پاس ٹھوس منصوبہ ہے، رشی سوناک، ٹوری افراتفری سے معاشی نقصان ہورہا ہے، کیئر اسٹارمر

24 مئی ، 2024

لندن (سعید نیازی / شہزاد علی) وزیراعظم رشی سوناک نے بدھ کی شام ملک میں 4جولائی کو عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا، قبل ازوقت انتخابات کا اعلان رشی سوناک نے ڈائوننگ اسٹریٹ پر صحافیوں کے سامنےبارش سے بھیگتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل توقع کی جارہی تھی کہ انتخابات موسم خزاں میں ہونگے۔ لیکن گزشتہ روز دن سے ہی انتخابات کے حوالے سے افواہیں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں۔ فارن سیکرٹری لارڈ کیمرون اپنا بیرونی دورہ مختصر کرکے برطانیہ پہنچے تھے جبکہ ڈیفنس سیکرٹری گرانٹ شیپس نے بیرون ملک روانگی کو مختصروقت کیلئے موخر کر دیا تھا۔ بعد دوپہر کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد رشی سوناک نے پانچ بجے شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بادشاہ چارلس سے ملاقات کرکے انہیں پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی درخواست کی جسے انہوں نے منظور کر لیا ہے اور جس کے بعد عام انتخابات 4 جولائی کو منعقد ہونگے۔ انتخابات کیلئے تمام جماعتوں نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ رشی سوناک کا عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں بطور وزیراعظم قوم کیلئے کی گئی خدمات پر فخر ہے۔ کورونا وبا، فرلو اسکیم، روانڈا منصوبہ اور مہنگائی میں کمی ایسے کام ہیں، جن کی گواہی عوام دینگے۔ انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے خاتمے اور یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے سبب دنیا خطرناک صورت حال سے دوچار ہے، ایسی صورت میں برطانیہ کو ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جس کے پاس مستقبل کے حوالے سے کوئی منصوبہ ہو۔ انہوں نے لیبر پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے حوالے سے پیر کو آنے والی رپورٹ، جس کے مطابق مہنگائی کی شرح 2.3 فیصد پر آگئی ہے، حکومت کیلئے مثبت خبر تھی اور آئی ایم ایف نے بھی برطانوی معیشت کے حوالے سے بہت اچھی پیشگوئی کی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ رشی سوناک نے اس وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن لیبر پارٹی کو حکمران جماعت پر عوامی مقبولیت کے حوالے سے 20 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ اپوزیشن لیڈر سرکیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ قوم انتخابات کی منتظر ہے اور وہ اب عوام کے ساتھ مل کر برطانیہ کی تعمیر نو کرینگے۔ پارلیمنٹ کو جمعہ کو معطل کر دیاجائے گا جبکہ باضابطہ طور پر آئندہ جمعرات کو اسے تحلیل کر دیا جائے گاجس کے بعد پانچ ہفتوں پر محیط باضابطہ انتخابی مہم چلے گی۔ سرکیئر اسٹارمر کا مزید کہنا تھا کہ ٹوری افراتفری کے سبب معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اب تبدیلی کا وقت ہے اور ٹوری پارٹی کو مزید ایک ٹرم دینے سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے کہاہے کہ انتخابات رشی سوناک کونکالنے کا بہترین موقع ہوں گے جبکہ ریفارم کے لیڈر رچرڈ ٹائس نے کہا ہے کہ ٹوری پارٹی نے برطانیہ کی حالت ابتر کر دی ہے اور لیبر پارٹی اسے دیوالیہ کر دے گی، صرف ہماری پارٹی کی پالیسیاں ہی برطانیہ کو بچا سکتی ہیں۔ وزیراعظم رشی سوناک نے جمعرات کو انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب روانڈا کیلئے پروازیں انتخابات کے بعد ہی روانہ ہوں گی اور اگر عوام ان کی پالیسیوں کا تسلسل چاہتے ہیں تو وہ ٹوری پارٹی کو کامیاب بنائیں۔ واضح رہے کہ رشی سوناک برطانیہ کے پہلے نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم ہیں، وہ 2015 میں پہلی مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے اور بورس جانسن کی حکومت میں چانسلر کے عہدے پر فائز رہے ، بورس جانسن کیخلاف جولائی 2022 میں بغاوت کے بعد پارٹی لیڈر کیلئے انتخاب میں وہ لز ٹرس سے شکست کھا گئے تھے لیکن لز ٹرس کی حکومت صرف 49 دن ہی چل سکی تھی جس کے بعد رشی سوناک بلامقابلہ پارٹی کے سربراہ اور وزیراعظم منتخب ہوگئے تھے۔