کراچی (ٹی وی رپورٹ) ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیخلاف روز اول سے سازش جاری ہے مگر سازشوں کے باوجود ایٹمی پروگرام جاری ہے، پاکستان نے کروز میزائل بنالیے ہیں جو نہ صرف جہاز بلکہ نیوی کی سب میرین سے بھی لانچ کیے جاسکتے ہیں اور یہ درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،جوہری ٹیسٹ کیلئے بڑے کام 1996ء میں ہی کرلیے گئے تھے، اس وقت پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو تھیں، الٹی گنتی کے بجائے نعرۂ تکبیر لگا کر ایٹمی دھماکوں کا بٹن دبا یا گیا اسی لیے یہ یوم تکبیر کہلاتا ہے، پاکستان میں آج تک ایٹمی مواد چوری نہیں ہوا ہے، انڈیا سے یورینیم چوری ہونے کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ جوہری ٹیسٹ کیلئے بڑے کام 1996ء میں ہی کرلیے گئے تھے، اس وقت پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو تھیں، اس وقت حکومت کا خیال تھا کہ انڈیا نے 1974ء کے بعد ایٹمی دھماکے نہیں کیے تو ہم بھی برصغیر کے امن کو مدنظر رکھتے ہوئے جوہری دھماکوں میں پہل کر کے خود پر پابندیاں کیوں لگوائیں، انڈیا نے 1998ء میں جوہری ٹیسٹ کیے تو ہمیں بھی موقع مل گیا۔ ڈاکٹر ثمرمبارک مند کاکہنا تھا کہ ایٹمی دھماکے کرنے کیلئے چاغی کا انتخاب وہاں پہاڑوں کی مضبوطی کی بنیاد پر کیا گیا، نواز شریف کو 13مئی کی ملاقات میں بتادیا تھا کہ ہم ایٹمی دھماکوں کیلئے تیار ہیں، ہمیں 20مئی 1998ء کو جوہری ٹیسٹ کیلئے اجازت مل گئی تھی، ریموٹ کنٹرول سسٹم بنانے والے انجینئر نے بٹن دبا کر ایٹمی دھماکے کیے، الٹی گنتی کے بجائے نعرۂ تکبیر لگا کر ایٹمی دھماکوں کا بٹن دبا یا گیا اسی لیے یہ یوم تکبیر کہلاتا ہے، بٹن دبانے کے بعد پانچ چھ سیکنڈ کچھ نظر نہیں آیا پھر زلزلہ آیا شدید جھٹکے سے ہمارا کھڑے رہنا مشکل ہوگیا، یہ جوہری ٹیسٹ کامیاب ہونے کی نشانی تھی جس سے سب بہت خوش ہوئے، ہم نے 52ڈگری درجہ حرارت میں گرم پتھروں پر سجدہ شکر ادا کیا۔ ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے کہا کہ کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی میں مخالفت کرنے والوں کی رائے تھی ایٹمی دھماکے نہ کریں تو امریکا بڑی امداد دے گا، ذوالفقار علی بھٹو نے 1974ء میں جوہری پروگرام کو فروغ دینا شروع کیا، 28مئی کا اشتہار چھاپنے والوں سے پوچھیں میری اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تصویر کیوں نہیں ہے، سب جانتے ہیں یہ کام سائنسدانوں نے ہی کیا ہوگا، سیاستدانوں کا کام ایٹمی پروگرام شروع کرنے، فنڈنگ کرنے اور ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا تھاکہ 28مئی 1998ء کو پاکستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے جبکہ چھٹا ایٹمی دھماکا 30مئی 1998ء کو کیا گیا، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی پاکستان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بہترین قرار دے چکی ہے، پاکستان میں آج تک ایٹمی مواد چوری نہیں ہوا ہے، انڈیا سے یورینیم چوری ہونے کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے ہمیشہ دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے، تمام تر دباؤ کے باوجود پاکستان کا ایٹمی پروگرام فروغ پایا اور بہت ایڈوانس ہوگیا، پاکستان پر ایران اور شمالی کوریا کو جوہری راز دینے کا جھوٹا الزام لگایا جاتا ہے، شمالی کوریا کا ایٹم بم پلوٹونیم کا ہے جبکہ ہمارے پاس تو پلوٹونیم ہی نہیں تھا، ایٹم بم سب سے پہلے امریکا نے بنایا وہاں سے ٹیکنالوجی فرانس، اسرائیل اور جنوبی افریقا کے پاس گئی۔ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا تھاکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیخلاف روز اول سے سازش جاری ہے مگر سازشوں کے باوجود ایٹمی پروگرام جاری ہے، پاکستان نے کروز میزائل بنالیے ہیں جو نہ صرف ایئر کرافٹ بلکہ نیوی کی سب میرین سے بھی لانچ کیے جاسکتے ہیں اور یہ درست ترین نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کراچی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہو یا نہ ہو ہم جنگ جیت چکے ہیں، اگر ایران کے ساتھ...
کراچی ماہرین سید محمد علی، حامد میر، شیری رحمان، سردار مسعود خان، منہاس مجید، ڈاکٹر نعیم، پروفیسر نغمانہ،...
کراچی ایران کے دارالحکومت تہران سے رات گئے ایک خصوصی طیارہ تہران سے اڑان بھرنے کے بعد افغانستان کے راستے...
اسلام آباد مصر ،ترکیہ ،رومانیہ ، ایران اور سعودی عرب کے پاکستان کے حق میں نغمے ،امریکہ اور ایران کے درمیان...
کراچی امریکہ کا 4.7 ارب ڈالر پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز میزائل کا معاہدہ، لاک ہیڈ مارٹن کو نئے میزائل کا بڑا کنٹریکٹ...
کراچی روس نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات اہم موقع ہے، تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کرنے...
کراچی صدرٹرمپ کیخلاف اندرونی سیاسی جنگ شروع، برطرفی کی باتیں ، ایران جنگ و خارجہ پالیسی ، صدرپر ذہنی طور پر...
کراچی امریکی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ چین ایران کو دفاعی ہتھیار بھیجنے کی تیاری کررہاہے، جن میں ایئر...