6 سے 15سال کے 1200بچوں کا روزانہ سگریٹ نوشی شروع کر نا خطرے کی گھنٹی

03 جون ، 2024

اسلام آباد(آئی این پی) ماہرین نے کہا ہے کہ حکومت رواں بجٹ میں تمباکو کی مصنوعات پر 30 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان میں 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام بچوں کو تمباکو سے بچانے کے موضوع پر مباحثے سے خطاب کرتے ٹوبیکو کنٹرول کی ڈاکٹر آمنہ کا کہنا تھا عام طور پر ہر 3 میں سے ایک شخص تمباکو نوشی کی وجہ سے مر جاتا ہے جو کہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے تحفظ کیلئے سنگل سگریٹ کی دستیابی کی روک تھام، پالیسی اور آگاہی کی کوششوں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی میں نوجوانوں کی شمولیت اہم ہے تاکہ ایسے پالیسی اقدامات وضع کیے جا سکیں جو زیادہ ہے زیادہ نتائج حاصل کرنے کے لئے زمینی حقائق کے مطابق ہوں گے۔ایس ڈی پی آئی کے ہیڈ آف پالیسی سید علی واصف نقوی، نے کہا کہ 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر 13-15 سال کی عمر کے 37 ملین سے زیادہ نوجوان تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔ " ڈبلیوایچ او یورپی خطے میں، اس عمر کے 11.5 فیصد لڑکے اور 10.1 فیصد لڑکیاں تمباکو استعمال کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے ۔ڈاکٹر وسیم آئی جنجوعہ نے کہا کہ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق تمباکو کی صنعت تمباکو کی تشہیرکیلئے 7.62 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے جس سے عوام کو تمباکو نوشی کی طرف راغب کرنیکے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی نشاندہی ہوتی ہے۔