کوئی اکنامک وژن نہیں، بجٹ IMFنے بنایا، نجکاری کسی صورت تسلیم نہیں، ارکان سینیٹ

14 جون ، 2024

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر،اپنے نامہ نگار سے، خصوصی نمائندہ)قائد حزب اختلاف سید شبلی فراز نے بجٹ کو زہر قاتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں کوئی اکنامک وژن نظر نہیں آتا ملک کو بھکاری بنا دیا گیا اس سے جان چھڑانےکی ایک چھوٹی سی کوشش بھی نہیں کی گئی ، اشرافیہ کے نمائندوں نے ہمیشہ عوام کا خون چوسا ہے ، ایکسپورٹ اور آئی ٹی سیکٹر پر ٹیکس بڑھانے کے ساتھ ساتھ سیلری کلاس پر مزید ٹیکس لگائے گئے ہیں ، قرضوں کا پہاڑاور سرکلر ڈیٹ سروسز میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ، ہمارا خسارہ مزید بڑھے گا اور ہم مزید قرضے لیں گے ،جب قربانی کی بات آئے تو پاکستانی عوام دیں اور جب عیاشی کی بات آئے تو اشرافیہ آگے آگے ہوتی ہے ، حکومتی ترجیحات کے تحت فائر وال اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے 35ارب روپے رکھے گئے ہیں ، جمعرات کو ایوان بالا میں بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ فائر وال اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے تیس سےپینتیس ارب روپے رکھے گئے ہیں ، اگر ہم نے نوجونوں کا خیال نہ رکھا تو یہ ملک کیلئے لائبلٹی بھی بن سکتے ہیں ، ۔سینیٹر بشر ی انجم بٹ نے کہا اداروں میں سیاسی بھرتیاں کی گئی ہیں یہ چیزیں ٹھیک نہیں ہیں.سینیٹر ایمل ولی خان نے ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کیلئے سینیٹ اور قومی اسمبلی سمیت تمام اراکین صوبائی اسمبلی ،ججزاور اسٹیبلشمنٹ کے مراعات میں کمی کا مطالبہ کیا اور کہا حکومت کو چاہیے کہ سانس لینے پر ،شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے پر بھی ٹیکس لگایا جائے ،یہ بجٹ عوامی نمائندوں نے نہیں بلکہ آئی ایم ایف نے بنایا ہے ، انہوں نے کہا ڈپٹی کمشنرز کو ملنے والی مراعات کو سامنے لایا جائے۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے وفاقی بجٹ میں پیپلز پارٹی کو نظر انداز کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ہم ملک میں نجکاری کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ اگر کاروبار چلانا حکومت کا کام نہیں ہے تو حکومت میں بیٹھے افراد کو بھی اپنے کاروبار نہیں چلانے چاہیے ،سیف اللہ آبڑو نے بجت بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا پی پی کے دوستوں سے بھی کہا ایم 6 موٹروے یہ سندھ کی شہ رگ ہے یہ موٹروے بننا چاہیے، ایف بی آر میں اپنے چیئرمین کو لانے کے لیے 20 اعلی افسران کو پول میں ڈال دیاگیا بجٹ میں مہنگائی 26 فی صد بتائی گی اور تنخواہ 25 فی صد بڑھا دی گی۔