عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہے،جلد خاتمہ ہوگا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

15 جون ، 2024

کراچی (جنگ نیوز)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا ہے کہ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہے، اس میں ادارے ملوث ہیں جن کا نام لینا مناسب نہیں عدلیہ جدوجہد کررہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد خاتمہ ہوگا،کوئی جج کسی کی بلیک میلنگ میں نہ آئے،جسٹس افتخارچوہدری اکیلے نکلے تھے،وکلا نے ساتھ دیا،مارشل لاکادروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس بنتے ہی فل کورٹ میٹنگ بلائی اور اس میں فیصلہ کیا کہ ہڑتال کلچر برداشت نہیں ہوگا، جس کے بعد پنجاب کے تمام وکلاء نے ہڑتال اور تالا بندی کے کلچر کو دفن کردیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے 90 فیصد وکلا اچھے لوگ ہیں، صوبہ پنجاب میں دو لاکھ سے زائد کیسز دائر ہوئے اور فیصلہ تین لاکھ سے زائد کیسز کا فیصلہ ہوا جس کے سبب زیر التواء مقدمات میں واضح کمی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہے اور مولوی تمیز الدین کیس سے یہ سلسلہ شروع ہوا اس میں ادارے ملوث ہیں جن کا نام لینا مناسب نہیں تاہم اس وقت عدلیہ بغیر دباؤ کے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے ،اسٹیبلشمنٹ کی عدلیہ میں مداخلت کا جلد خاتمہ ہونے والا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چوہدری افتخار اکیلے تھے جنہوں نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف جہاد کیا، سب لوگ کہتے تھے ایک بار جو جج گھر جائے واپس نہیں آتا مگر انہوں نے واپس آکر دکھایا، اس کا کریڈٹ وکلاء کو جاتا ہے اسی وجہ سے اب سول حکومت کا طویل دور گزر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمام عدلیہ کو اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ مل کر کرنا ہے، سول حکومت پر سوالات ہوسکتے ہیں مگر یہ مارشل لا نہیں ہے، ملک میں بہتری لانے کے لئے عوام ،پارلیمنٹیرینزاور سیاست دان ہم سے تعاون کریں۔