کسٹمز ایکٹ میں تبدیلی‘ ایپلٹ ٹربیونل یکم جولائی سے قائم ہونگے

15 جون ، 2024

اسلام آباد (رپورٹ:حنیف خالد) چیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر ٹوانہ اور انکی ٹیم نے کسٹمز ایکٹ 1969ء کے سیکشن 193میں تبدیلی کر دی ہے اور نیا سیکشن 194شامل کیا ہے جو ایپلٹ پربیونل کے نام پر فنانس بل میں شامل کیا گیا ہے متاثرہ فریق ٹربیونل کے فیصلوں کیخلاف 3ماہ کے اندر مجاز فورم پر اپیل دائرکرنے کا مجاز ہو گا ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 2024-25ء مالی سال میں کسٹمز ایپلٹ ٹربیونل کا قیام عمل میں لایا جائیگا جس کا نام ایپلٹ ٹربیونل ہو گا۔ کسٹمز ایکٹ کے تحت یہ ایپلٹ ٹربیونل دیئے گئے فنکشنز‘ پاورز اور جیورسڈکشن کو استعمال کیا کریگا۔ ایپلٹ ٹربیونل ممبرز پر مشتمل ہو گا جن کی تقرری وفاقی حکومت کیا کریگی۔ اپیلٹ ٹربیونل کے ممبران کی تعداد وفاقی حکومت کے جاری کردہ رولز کے تحت مقرر ہوا کرے گی۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977ء اور کسٹمز ایکٹ 1969ء کے سیکشن 219یا رائج الوقت رول یا قانون کے طابع ٹربیونل ہو گا‘ البتہ ایپلٹ ٹربیونل کے چیئرمین سمیت موجودہ ممبرز اپنے عہدے پر فنانس ایکٹ 2024ء کے نفاذ کے وقت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ایپلٹ ٹربیونل کا ممبر بننے کا ایسا شخص مجاز ہو گا جو ہائیکورٹ میں کسٹمز قوانین کی پریکٹس اور کم از کم 50کسٹمز کیسوں میں ہائیکورٹ میں پیش ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح کسٹمز سروس آف پاکستان کے بنیادی سکیل 21کے افسر ممبر بننے کے اہل متصور ہونگے البتہ کسٹمز سروس آف پاکستان کے بنیادی سکیل 20کے افسر بھی اسکے ممبر نامزد ہو سکیں گے جن کاتین سال کا تجربہ ہو گا۔ کسٹمز ایپلٹ ٹریبونل کے چیئرمین کے عہدے کی معیاد 3سال ہو گا۔ 62سال کی عمر کو پہنچنے پر ایپلٹ ٹربیونل کے چیئرمین اور ممبرز اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جایا کرینگے البتہ کارگزاری کی بنیاد پر اگر وفاقی حکومت نے چیئرمین یا ایپلٹ ٹربیونل کے ممبر کی برخاستگی کا حکم دیا تو انہیں برخاست کیا جا سکے گا۔ ایپلٹ ٹربیونل کے حکم کیخلاف سیکشن 194بی کے تحت اپیلوں کی اجازت مل سکے گی لیکن یہ اپیلیں 90یوم کے اندر دائر کرنا ضروری ہو گا۔