نوشتہ ………انور شعورؔ

اداریہ
17 جون ، 2024
زمانے سے یہی عالَم ہے پیہم
پریشانی بہت، آسودگی کم
کہاں تک صبر کر سکتا ہے انسان
اگر ناقابل برداشت ہو غم
سحر یا دوپہر یا شام یا شب
کسی پل چَین سے رہتے نہیں ہم
یہاں رہتا ہے کوئی شور برپا
برابر ہوتی رہتی ہے دمادم
منائی جا رہی ہے عید پھر بھی
دلوں میں اضطراب آنکھوں میں شبنم
سَتاتی ہیں اُنہیں محرومیاں اور
جو اُن کے سامنے رکھتے ہیں سَرخم
شعورؔ اپنا نوشتہ خود لکھیں آئو
ہمارے بَس میں سب کچھ ہے عزیزم!