ٹیکس میں اضافے سے غیرملکی سرمایہ کاری نکل سکتی ہے، ٹیلی کام آپریٹر کا انتباہ

17 جون ، 2024

اسلام آباد (ساجد چوہدری )ٹیلی کام انڈسٹری نے بجٹ تجاویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ ٹیکسز میں اضافے سے غیر ملکی سرمایہ کاری ملک سے نکل سکتی ہے،فنانس بل کی تجاویز پر عملدرآمد سے پہلے ہی مشکلات سے دوچار صنعت کا قتل ہوگا،ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ہے، دو بڑے مارکیٹ پلئیرز پہلے ہی پاکستان چھوڑ کر جارہے ہیں، فنانس بل کی تجاویز پر عملدرآمد سے پہلے سے مشکلات سے دوچار صنعت کا قتل ہوگا،خط میں کہا گیا ہے کہ بجٹ تجاویز پر عملدرآمد سے ڈیجیٹل پاکستان کا خواب بھی بری طرح متاثر ہوگا، نان فائلر ٹیلی کام صارفین سے 75فیصد ایڈوانس ٹیکس وصولی قابل عمل نہیں، اس فیصلے سے ٹیلی کام شعبے اور حکومت کو محصولات کا نقصان ہوگا، ٹیلی کام کمپنیوں نے انکم ٹیکس جنرل آرڈ پر بھی تحفظات کا اظہار کردیا اور کہا ٹیلی کام سیکٹر نان فائلرز کے ٹیکس کے معاملے کا فریق نہیں ، تعمیل نہ کرنے پر ہر پندرہ دن میں 100 ملین سے 200 ملین پاکستانی روپے تک کے جرمانے ہیں، خط میں کہا گیا ہے کہ پانچ سو ڈالر مالیت تک موبائل فون سیٹ پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھنے سے کم آمدن طبقے کی شمولیت کو نقصان ہوگا، ٹیلی کام آپریٹرز نے اپنے تحفظات پیش کرنے کیلئے چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا سے وقت مانگ لیا، ٹیلی کام آپریٹرز اس سے قبل وزیر مملکت آئی ٹی کو بھی خط لکھ کر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں ۔