رمی جمرات کے بعد لاکھوں حجاج کا طواف کعبہ

17 جون ، 2024

مکہ مکرمہ ( نیوز ایجنسی، جنگ نیوز ) دنیا بھر سے آئے 18لاکھ سے زائد حجاج کرام نے جمرہ عقبہ میں رمی جمرات کے مناسک ادا کرنا شروع کردیئےحاجیوں نے شیطان کو کنکریاں ماریں، جمرات کی چاروں منزلوں پر ہلچل کے بغیر رمی ، سکیورٹی کے سخت انتظامات، حاجیوں نے حلق کروانے کے بعد احرام کھول دیئے، لاکھوں حجاج کی مسجد حرام آمد، ’طواف افاضہ‘ کیا، انتظامیہ نے حجاج کرام کی آسانی اور ان کے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لئے ہنگامی پلان پرعمل درآمد جاری رکھا۔ تفصیلات کے مطابق شیطان کو کنکریاں ماریں ،ا س موقع پر کئی دلچسپ واقعات بھی دیکھنے کو ملے، کئی لوگ غصے میں کنکریوں کے ساتھ ساتھ شیطان کو جوتے مار کر بھی اپنا غصہ نکالتے رہے جبکہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے مطابق ایک بزرگ نے چھرے والی بندوق سے پے درپے چھرے مار کر اپنا غصہ نکالا۔شیطان کو کنکریاں مارنے کا سلسلہ تین روز جاری رہے گا۔ دوسری طرف سعودی حکومت کے اداروں کی طرف سے حجاج کرام کو رمی جمرات کے موقع پر ہرممکن سہولت فراہم کی ہے۔حجاج کرام نے جمرات کی چاروں منزلوں پر بغیر ہجوم یا ہلچل کے رمی شروع کی۔ اس موقعے پر تمام حفاظتی، صحت، ہنگامی اور سول ڈیفنس کی خدمات فراہم کی گئیں۔ا س کے علاوہ صحنوں میں حجاج کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے ذمہ دار سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔ یہ عملہ حجاج کرام کو رمی کی مختلف منزلوں کی طرف آمد ورفت میں مدد اور رہ نمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہجوم کو منظم کرتا رہاتاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔حجاج کرام جمرہ عقبہ میں رمی کرنے کے بعدقربانی کی ‘ مرد حاجیوں نے حلق کرائے یعنی سر منڈوائے اور احرام کھول دیئے۔قبل ازیں انہوں نے طواف کعبہ اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی۔سعودی اسلامی امور کی وزارت نے اس سال 1445ہجری کے حج کے دوران عازمین کے استقبال کے لیے مزدلفہ کی جامع مسجد میں بھرپور تیاریاں کیں۔ مسجد میں معیاری آگاہی اور رہنمائی کی خدمات فراہم کی گئیں۔ الیکٹرانک خدمات، انٹرایکٹو انڈیکیٹیو اسکرینز اور وائی فائی سروس کا مربوط نظام پیش کیا گیا۔ ضیوف الرحمٰن کی خدمت اور تسلی کے لے سعودی دانش مند قیادت کی ہدایات پر ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔وزارت اسلامی امور نے مزدلفہ میں مسجد ’’المشعر الحرام‘‘کے لیے کئی ترقیاتی منصوبے نافذ کئے تھے۔ مسجد میں 3994 . 870 ملین ریال سے ایئر کنڈیشنگ اور ہوا صاف کرنے کے نظام کا منصوبہ، مسجد کو پرتعیش قالینوں سے آراستہ کرنے کا منصوبہ، باتھ رومز کی دیکھ بھال اور ترقی کا منصوبہ، معذور افراد کے لیے خصوصی باتھ رومز کا اضافہ اور مسجد میں بیک اپ جنریٹر شامل کرنے جیسے اقدامات کئے گئے۔ نگرانی کے لیے کیمروں کا نظام اور حجاج کو تعلیم دینے کے لیے انٹرایکٹو سکرینز بھی نصب کی گئیں۔مزدلفہ میں مشاعر مقدسہ کا ذکر اللہ تعالی کے اس فرمان میں کیا گیا ہے۔ ’’فإذا أفضتم من عرفات فاذکروا اللہ عند المشعر الحرام‘‘ یعنی جب تم عرفات سے نکلو تو مشاعر مقدسہ میں خدا کو یاد کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ کے شروع میں ہی شارع نمبر پانچ سے قبلہ کی طرف اترتے تھے۔ یہاں پر اب مسجد ’’مشعر حرام‘‘ ہ۔ یہ مسجد الخیف سے تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور نمرہ مسجد سے 7کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تیسری صدی ہجری کے آغاز میں اس کی چھت نہیں تھی اور اس کے چھ دروازے تھے۔ اس کی لمبائی مشرق سے مغرب تک 90 میٹر اور چوڑائی 56میٹر تھی۔ اب اس میں12ہزار سے زیادہ نمازیوں کی گنجائش ہے اور اس کے 32میٹر اونچے دو مینار بھی ہیں۔دریں اثناءسعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے بتایا کہ اس سال حج سیزن کے دوران 112,081سے زائد عازمین کو ایمرجنسی، اسپتالوں میں داخلے اور آؤٹ پیشنٹ کلینک میں صحت کی خدمات فراہم کیں، 20حاجیوں کی اوپن ہارٹ سرجری کی گئی،ہیٹ اسٹروک سے 569افراد متاثر ہوچکے، طبی ٹیموں نے 230 کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کے آپریشن کئے اور 819ڈائیلاسز آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کےعلاوہ تقریباً 5,114 حجام کرام کو ورچوئل طبی مشورے فراہم کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال کے حج میں سب سے بڑا چیلنج زیادہ درجہ حرارت ہے۔ اس دن گرمی اور ہیٹ اسٹروک کا سامنا کرنے والے حجاج کی تعداد اب تک تقریباً 569 تک پہنچ چکی ہے۔دریں اثناء سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے اعلان کیا کہ اس سال 1445 ہجری کے دوران حجاج کرام کی کل تعداد 18 لاکھ 33 ہزار 164 رہی ہے۔ ان میں سے 16 لاکھ 11 ہزار 310 عازمین حج دنیا بھر کے ملکوں سے حج کرنے تشریف لائے تھے۔ ملکی حجاج کرام کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار 854 رہی۔ ان ملکی حجاج میں سعودی شہری اور سعودی رہائشی دونوں طرح کے افراد شامل ہیں۔اتھارٹی نے رواں سال کے حج کے لیے اپنے اعدادوشمار کے نتائج میں عندیہ دیا ہے کہ اندرون و بیرون ملک مقیم عازمین حج کی مجموعی تعداد میں سے مرد عازمین حج کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 137 رہی اور خواتین کی تعداد 8 لاکھ 75 ہزار 27 رہی۔مملکت کے باہر سے آنے والے عازمین حج میں سے عرب ملکوں سے آنے والے عازمین کا تناسب 22 . 3 فیصد رہا۔ ایشیائی ممالک سے 63 . 3 فیصد، افریقی ملکوں سے 22 . 3 فیصد اور یورپی، شمالی و جنوبی امریکہ و آسٹریلیا سے آنے والے حجاج کرام کی تعداد 3 . 2 فیصد تھی۔مملکت سے باہر سے آنے والے عازمین حج میں سے 15 لاکھ 46 ہزار 345 ایئرپورٹس کے ذریعے پہنچے۔ 60ہزار 251حجاج کرام بری راستوں اور 4 ہزار 714 حجاج کرام بحری پورٹس سے سعودی عرب داخل ہوئے۔جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے 1445 ہجری یا 2024 عیسوی کے حج سیزن کے لیے شماریاتی اعداد و شمار اور اشارے جاری کرتے ہوئے انتظامی ریکارڈ کے اعداد و شمار پر انحصار کیا ہے۔