کراچی (نیوز ڈیسک) ترجمان سندھ پولیس نے کہا ہے کہ سیکورٹی اقدامات کے تحت اہلکاروں کی تعیناتیاں اور تقرریاں معمول کا حصہ ہیں، اضافی نفری کی تعیناتی کے باعث پیدا ہونے والی مبینہ بدنظمی سے متعلق معلومات لی جا رہی ہیں۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی آصف اعجاز شیخ نے کہا کہ کسی اہلکار کو سزا کے طور پر نہیں بھیجا گیا، پہلے سے تعینات اہلکار ٹریننگ پر بھیجے گئے ۔قبل ازیں میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ سندھ پولیس کے اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے 250؍ اہلکار کراچی کی سڑکوں پر دربدر ہوگئے، چینی کمپنی نے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکار لینے سے انکار کیا تو اہلکاروں کو سڑکوں پر بے یارومددگار رات گزارنی پڑی۔ تفصیلات کے مطابق اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں سے متعلق چلنے والی خبر کے حوالے سے سندھ پولیس کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے تحت اہلکاروں کی تعیناتیاں اور تقرریاں معمول کا حصہ ہیں۔ بیان کے مطابق اضافی نفری کی تعیناتی کے باعث پیدا ہونے والی مبینہ بدنظمی سے متعلق معلومات لی جا رہی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ پولیس کے شعبہ انسداد دہشتگردی کی کارکردگی پر ملکی اور غیرملکی ادارے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ میڈیا پر جاری کی گئی خبر یکطرفہ اور رپورٹر کی اپنی رائے یا خیالات ہوسکتے ییں، تاہم ضروری یہ تھا کہ انتہائی حساس اور سکیورٹی ایشوز پر مبنی خبر کے نشر کرنے سے قبل سندھ پولیس کے ذمہ داران کا مؤقف بھی لے لیا جاتا۔اس معاملے پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی آصف اعجاز شیخ نے کہا کہ کسی اہلکار کو سزا کے طور پر نہیں بھیجا گیا، سی ٹی ڈی اہلکاروں کے حوالے سے چلنے والی خبر میں صداقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے تعینات اہلکار ٹریننگ پر بھیجے گئے تھے، ان کی جگہ 15 روز کے لیے سی ٹی ڈی کی نفری روانہ کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ظاہر کیا جا رہا ہے جیسے ان کو سزا ملی ہو، تمام بھیجے گئے اہلکار 15 روز کے اندر واپس سی ٹی ڈی رپورٹ کریں گے۔قبل ازیں سندھ پولیس کے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے 250 اہلکار کراچی کی سڑکوں پر دربدر ہوگئے، چینی کمپنی نے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکار لینے سے انکار کیا تو اہلکاروں کو سڑکوں پر بے یارومددگار رات گزارنی پڑی۔ سی ٹی ڈی سندھ کے 250 اہلکاروں کا سی پیک سیکیورٹی پر کراچی تبادلہ کیا گیا تھا، لیکن چینی کمپنیوں کے انکار کے بعد متعدد اہلکار ڈیفنس میں واقع چائنیز کمپنی میں آمد کروانے کیلئے سڑکوں پر بے یارو مدد گار بیٹھے رہے۔ اہلکاروں نے اعلیٰ افسران کو درخواست بھی لکھی، جبکہ ایک اہلکار نے اعلیٰ افسران کے آگے وڈیو بیان میں دہائی بھی دی۔ بڑی تعداد میں اہلکار اسلحہ سمیت توحید کمرشل میں واقع بینکوں کے سامنے بیٹھے رہے۔ پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ کوئی لائن افسر ہماری کال ریسیو نہیں کر رہا، کوئی چائنیز سیکیورٹی پر رکھنے کو تیار نہیں ہے۔ صوبے بھر سے آئے اہلکاروں نے ڈیفینس کی سڑکوں پر رات گزاری۔
کراچیوزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی بھارت کے شہر احمد آباد میں ہونے والی میٹنگ میں...
اسلام آباد سندھ کے سیاسی خاندانوں میں ہلاکتوں پر انمول عرف پنکی گرفتار، ہلاک ہونے والے افراد کی جانب سے...
کراچی مجھے کہا جا رہا ہے بنی گالا کے بندے کا نام لو، پنکی ۔ پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے، اسپیشل...
لاہوروفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تاڑر نے کہا ہے کہ فی الحال 28 ویں ترمیم کے آثار نظر نہیں آرہے ، پارلیمنٹ میں...
لاہور پاکستان کے ممتاز دانشور، سینئر صحافی، کالم نگار اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیرِ اعلیٰ الطاف حسن قریشی...
کراچی سندھ حکومت نے بھی کاروباری اوقات کی پابندی ختم کردی ، فیصلے کا اطلاق صوبے بھر کی مارکیٹوں، شاپنگ مالز،...
کراچی صدرٹرمپ انتظامیہ کی یو اے ای کو ایران کے اہم جزیرے پر قبضے کی ترغیب، واشنگٹن کا خلیجی ریاستوں کو ایران...
اسلام آباد دورہ چین، وزیر اعظم شہباز شریف بیجنگ سے قبل ہانگ ژو جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور چین کے...