وزیراعظم کورونا امدادی پیکیج میں 40ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

29 نومبر ، 2021

اسلام آباد (ایجنسیاں)وزیراعظم کی جانب سے دیے جانے والےکوروناامدادی پیکیج کے استعمال میں 40ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل کو 354.3بلین روپے کے اخراجات کی جانچ پڑتال کیلئے متعلقہ ریکارڈ نہ ملا،ذرائع کے مطابق آڈیٹر جنرل نے 354.3 بلین روپے کے اخراجات کی جانچ پڑتال کرنا تھی تاہم متعلقہ ریکارڈ نہ ملا،کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم نے 24مارچ 2020 کو 1.24 ٹریلین روپے کے کورونا پیکیج کی منظوری دی، ریلیف پیکیج کے بنیادی مقاصد میں کورونا پر قابو پانا، شہریوں کو طبی اور غذائی امداد کی فراہمی اور ان کی کاروباری اور معاشی مدد شامل تھی، اعلان کردہ پیکج میں سے 30 جون 2020 تک 354.2 بلین روپے جاری کیے گئے۔وزارت خزانہ کی جانب سے اس رپورٹ کا اجراآئیایم ایف کی ان پانچ پیشگی شرائط میں سے ایک ہے جو جنوری تک ایک بلین ڈالر قرض کی قسط حاصل کرنے کیلئے پاکستان پر لاگو کی گئیں،رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزارت دفاع کے 3.2 ارب روپے کے مشتبہ اور بے قاعدہ اخراجات تھے جبکہ دیگر سرکاری محکموں کے 1.5 ارب روپے کے مشکوک اخراجات تھے۔یہ رپورٹ 30 جون 2020 تک مالی سال کے اختتام پر کورونا امدادی سرگرمیوں میں شامل وفاقی محکموں کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر مبنی ہے۔