وزیراعظم کی 200 یونٹس ماہانہ بجلی پر رعایت

10 جولائی ، 2024

اسلام آباد (نیوز رپورٹر)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 200یونٹس تک ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کیلئے 50ارب روپے کے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے فیصلے سے اڑھائی کروڑ گھریلو صارفین کو جولائی، اگست اور ستمبر میں چار روپے سے سات روپے فی یونٹ فائدہ ہو گا، یہ50 ارب روپے کی سبسڈی ہم ترقیاتی فنڈز سے نکال کر دینگے، ریلیف سے کے۔الیکٹرک کے صارفین بھی مستفید ہونگے، ہم نے کشکول توڑنا ہے، اربوں، کھربوں کی کرپشن پر قابو پا کر عام آدمی کو ریلیف دینگے، کراچی بندرگاہ پر 1200ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے، اخراجات کم کرنے کے اقدامات کی خود نگرانی کر رہا ہوں، وقت آ گیا اشرافیہ بھی قربانی دے، وعدہ ہے جان لڑا دیں گے، ترقی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، بانی بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا مر جائوں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائونگا پھر گئے بھی اور مہنگا پروگرام لیا، پی این ایس سی کے پاس صرف 12جہاز جبکہ سالانہ تنخواہیں 5ارب روپے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں اور اتحادی جماعتوں کے تمام سربراہوں کے ساتھ ملکر ہم نے ریاست کو بچایا اور سیاست کو داؤ پر لگایا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں سیاست چمکانے کیلئے بڑے بول بولے گئے، پی ٹی آئی نے 90 روز میں بدعنوانی کے خاتمہ کا اعلان کیا لیکن اسکے برعکس کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کئے، چینی اور گندم کو پہلے برآمد کیا گیا اور بعد میں مہنگے داموں درآمد کی گئی اور قریبی ساتھیوں کی جیبیں بھری گئیں، ملک کے لوٹے گئے 300 ارب ڈالر واپس لانے کی بھی باتیں کی گئیں لیکن ایک دھیلا بھی واپس نہیں آیا، پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنی سیاست کی خاطر ملک کو دائو پر لگایا مگر برطانیہ کے ادارے نیشنل کرائم ایجنسی کی مہربانی سے پاکستان کے خزانے میں 190 ملین پاؤنڈ بھجوائے گئے تاکہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع ہو لیکن کس طرح ہیرا پھیری سے 190 ملین پاؤنڈ پر بھی ہاتھ صاف کئے گئے اور قومی خزانہ میں یہ رقم جمع کرانے کی بجائے اس میں خوردبرد کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ تھا کہ مرجائوں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوں گا لیکن پھر آئی ایم ایف کے پاس گئے اور مہنگا پروگرا م لیا اور پھر اسی پروگرام کو سیاست کی نذر کر دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے سے قومی خزانہ کو سالانہ 80 سے 90 ارب روپے کی بچت ہو گی، بلوچستان کی طرز پر ملک بھر میں تیل پر چلنے والے 10 لاکھ ٹیوب ویلوں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کیا جائیگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ میں کچھ نئے شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لایا گیا ہے، تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکس لگا ہے، رئیل اسٹیٹ کے شعبہ پر ٹیکس سے 100 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے، بجٹ میں یقیناً ٹیکس لگے ہیں مگر امراء اور اشرافیہ کو بھی ٹیکس کے دائرہ میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں کی بھی ری بیسنگ ہوئی ہے، پروٹیکٹڈ صارفین کے بھی نرخ بڑھے ہیں، پروٹیکٹڈ صارفین کے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کا ادراک ہے، اڑھائی کروڑ گھریلو صارفین جو 94 فیصد بنتے ہیں، میرے اعلان سے مستفید ہونگے، 200 یونٹس تک ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو تین مہینے جولائی، اگست اور ستمبر کیلئے رعایت دی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت صنعت اور زراعت کو چلانے کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کریگی، ڈاؤن سائزنگ کا کام شروع ہو چکا ہے، ہم بچت کرینگے، ڈائون سائزنگ اور سرکاری اخراجات میں کمی کے اقدامات کی خود نگرانی کر رہا ہوں، ایف بی آر کی 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں درآمدات اور برآمدات پر سالانہ پانچ ارب ڈالر کا بحری جہازوں کا کرایہ خرچ ہو تا ہے، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے پاس صرف 12 بحری جہاز ہیں اور سالانہ تنخواہیں پانچ ارب روپے ہیں، پاکستان کی نسبت خطے کے دیگر ممالک کے پاس سامان کی نقل و حمل کیلئے کئی گنا زیادہ بحری جہاز ہیں، بنگلہ دیش کے پاس بھی کئی سو جہاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک کو کونے کونے میں چاٹا جا رہا ہے، ہم نے اس کا فوری علاج کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اربوں، کھربوں روپے کی کرپشن پر قابو پانے کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف ملے اور ملک خوشحال ہو، ہم نے کشکول توڑنا ہے، قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے تو دن رات محنت کرنا ہو گی، ریلیف کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جو رقم کرپشن کی نذر ہور ہی ہے اس کا فوری سدباب کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک مقتدر ادارے نے ہمیں بتایا ہے کہ صرف کراچی کی بندرگاہ پر ڈیوٹیز کی مد میں سالانہ 1200 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے جبکہ 2700 ارب روپے کے کلیمز ٹربیونلز اور اعلیٰ عدالتوں میں کئی سالوں سے زیر سماعت ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی جان لڑا دیں گے اور ملکی ترقی کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور ملک کو مشکلات سے نجات دلائیں گے۔