آئی ایم ایف کی شرط، کچھ دوستوں کو سمجھ نہیں آتی انکم ٹیکس بڑے زمینداروں پر لگے گا، چھوٹوں پر نہیں، صدر زرداری

10 جولائی ، 2024

لاہور (نمائندہ جنگ) صدر مملکت آصف علی زادری نے کہا ہے کہ زراعت ہمارا مستقبل، کچھ دوستوں کو سمجھ نہیں آتی انکم ٹیکس بڑے زمینداروں پر لگے گا، چھوٹوں پر نہیں، ملک بنانے میں صرف ایک فنانشل پالیسی نہیں بہت سی چیزیں درکار ہوتی ہیں، فنانشل پالیسیز ایک بڑا گڑھا ہیں اس میں ایشو یہ ہے کہ ہر ایک کا اپنا مائنڈ سیٹ ہے ہمارے مائنڈ سیٹ میں ایگرو فارمنگ، ایگرو انڈسٹری اور ایگرو فیوچر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دوستوں کو ایگری کلچرل سوچ سمجھ نہیں آتی اب وہ اور بھی انکم ٹیکس لگانے جا رہے ہیں انکم ٹیکس تو بڑے زمینداروں پر لگے گا چھوٹوں پر نہیں مگر وہ پھر بھی لگانے جا رہے ہیں۔ صدر زرداری نے کہا کہ لگانا پڑے گا کیونکہ آئی ایم ایف کی شرط ہے یہ صوبائی حکومتوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ آصف زرداری نے کہا ہم اس میں ایسے ہی حصہ لیں گے جیسے بزنس مین انکم ٹیکس دینے میں حصہ لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خرچہ بھی دکھائیں گے، منافع بھی دکھائیں گے تو ہاری کو آدھا دیتے ہیں وہ بھی دکھائیں گے پھر ٹیکس تو منافع پر ہی ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پروفیسر وارث میر میموریل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ میں آزادی صحافت کے ساتھ ہوں لیکن سیلف آزادی کے ساتھ نہیں ہوں یہ سیلف آزادی جو گروپ بنا کر کی جاتی ہے اور اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اگر بغیر مقصد کے لئے یہ آزادی ہے تو سو بسمہ اللہ کیونکہ جتنی تنقید میرے اوپر ہوئی ہے کسی اور پر نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ ٹی وی نہیں دیکھتے تو میں کہتا ہوں کہ مجھے دعائیں ملتی ہیں اس میں میری غیبت ہوتی ہے میں کیوں منع کروں۔ صدر زرداری نے کہا کہ آج کے حالات میں سوشل میڈیا کا دور ہے لوگوں کے پاس طاقت ہے ہر فرد طاقتور ہے۔ ہر شخص اپنی بات دنیا کے سامنے رکھ سکتا ہے مگر ان میں بھی ایک گروپنگ ہو چکی ہے۔ ان کے اندر بھی سوشل سیکٹر اور Capitalist سیکٹر چل رہا ہے۔ آپ کے پڑوس میں حال ہی میں الیکشن ہوئے تو مودی میڈیا کا نام سنا ہو گا مودی میڈیا وہ ہے جو اس کے ارب اور کھرب پتی دوستوں نے بنایا ہے وہ خود ہی اپنی سوچ کو لوگوں تک لے کر جاتے ہیں اور پھر اپنے فیصلوں کے مطابق لوگوں کی رائے بناتے ہیں۔ امریکہ میں 200سال پرانی جمہوریت ہے وہاں بھی اس قسم کے کام ہوتے ہیں آخری الیکشن میں بھی وہاں امریکی لوگوں نے جب ٹرمپ کو ووٹ دیا تو اس کے بعد اخبارات کے مطابق شواہد ملے کہ ٹرمپ کی مدد کی گئی۔ اب بھی یہ سوچ ہے کہ ایک بڑی لابی مسلم دنیا میں تقسیم لانےکے حوالے سے ایک Perceptionبنانے جا رہی ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ آج محترمہ فاطمہ جناح کی ولادت کا دن ہے اس لئے ان کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں زندگی میں بہت آزمائشیں آئیں لیکن ہم نے ان کا مقابلہ کیا۔ بے نظیر بھٹو حامد میر کے والد سے رہنمائی لیتی تھیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ حامد میر کے جیو والے بچپن سے میرے ساتھ پڑھے ہیں میں انہیں تب سے جانتا ہوں لیکن میں انہیں کہتا نہیں ہوں کہ یہ کرو یا وہ کرو کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ اس کی قیمت بہت بڑی ہے۔ دوسرا میں کیوں آزمائش میں ڈالوں مجھے تو ثواب ملتا ہے اور میں غیبت کو ثواب سمجھتا ہوں۔ صدر مملکت نے کہا کہ بھٹو صاحب کے کہنے پر الحمرا ہال وارث میر نے ہی شروع کروائے تھے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کو قتل کیا گیا۔ یہ سیاسی قتل پیپلز پارٹی کی تاریخ میں ہوئے اور ہم نے ان کا مقابلہ کیا۔ آصف زرداری نے کہا کہ کراچی میں بمبار اگر گاڑی کے نیچے آ جاتا تو پیپلز پارٹی کی پوری قیادت ہی اڑ جاتی۔ ہم نے اس ٹرک کے گرد لوگوں کا ایک حصار بنایا ہوا تھا جس نے اس بمبار کو اندر گھسنے نہیں دیا۔ قتل ہوتے رہے اور ہماری تاریخ میں بھی ہوتے رہے ہیں لیکن خوش قستمی سے ہمارا ایمان ایسا ہے کہ ہم نے اس دن جانا ہے جس دن مولا نے لے کر جانا ہے اس سے پہلے دشمن لاکھ برا چاہے تو کچھ نہیں کرسکتا۔