سپریم کورٹ، عدم پیشی پر قاسم سوری کی جائیداد کی تفصیلات طلب

10 جولائی ، 2024

اسلام آباد( رپورٹ:،رانا مسعود حسین )سپریم کورٹ نے عام انتخابات 2018میں این اے 265کوئٹہ میں متعلق انتخابی دھاندلی سے متعلق ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے امیدوار و سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی عدالت میں عدم پیشی پر حکومت سے ان کی تمام جایئداد کی تفصیلات طلب کرلی جبکہ انکے مبینہ بیرون ملک فرار ہونے متعلق وفاقی حکومت اور ایف آئی اے سے ر بھی پورٹ طلب کرلی ہے ،عدالت نے وفاقی اور بلوچستان حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم چار رکنی بینچ نے منگل کے روزکیس کی سماعت کی تو قاسم سوری عدالتی نوٹس کے باوجود بھی غیر حاضر تھے، چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ قاسم سوری سپریم کورٹ سے حکم امتناع لیکر اپنے عہدہ پر بیٹھ گئے تھے ،چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا حکم امتناع کے اجراء کے بعد کیس نہیں چلے گا؟ قاسم سوری نے حکم امتناع پر بطور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ایک غیر آئینی اقدام کیا تھا ،قومی اسمبلی کی ایک قرار داد کو جواز بنا کر انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کردیاتھا ، قاسم سوری کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کے استفسار پربتایا کہ میرا اپنے مو کل سے کوئی رابطہ نہیں ،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ اپنے کلائنٹ کو پکڑ کر تو نہیں لا سکتے ہیں ؟آپ رابطہ کرکے انہیں آگاہ کریں کہ ہم سپریم کورٹ کو ایسے استعمال نہیں ہونے دیں گے ،نعیم بخار ی ایڈوکیٹ نےے عدالت سے قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہوجانے کی بناء پر معاملہ کو غیر موثر قرار دیکر انتخابی عذرداری کو مسترد کرتے ہوئے قاسم سوری کی عدم پیشی پر از خود نوٹس لینے کی استدعاکی تو فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قاسم سوری کی تمام تر جائیدادوں کی تفصیلات منگوا لیتے ہیں،جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ جائیدادوں کی تفصیلات منگوانے پر تو مردہ بھی قبر سے پیش ہو جاتا ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قاسم سوری کی قومی اسمبلی کی رکنیت کی معیاد پوری ہوگئی ہے لیکن سپریم کورٹ سے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوسکاہے ،بعد ازاں عدالت نے قررا دیا کہ بار بار طلبی اور اخبارات میں اشتہارات دینے کے باجوداپیل گزار قاسم سوری عدالت میںپیش نہیں ہو رہے ہیں جبکہ ا ن کے وکیل نعیم بخاری کا بھی اپنے کلائنٹ سے رابطہ نہیں ہے،اس لئے بلوچستان حکومت آئندہ سماعت تک ان کی تمام تر جائیدادوں کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ پیش کرے جبکہ انکے مبینہ بیرون ملک فرار ہونے سے متعلق وفاقی حکومت اور ایف آئی اے رپورٹ پیش کریں ،عدالت نے وفاقی و بلوچستان حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔