غزہ، پناہ گزین کیمپ اور مسجد پر اسرائیلی بمباری، 91 شہید، سیکڑوں زخمی

14 جولائی ، 2024

غزہ، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں غزہ کے المواسی اور الشاطی کیمپوں میں فلسطینیوں کا قتل عام ، خوفناک بمباری میں 91فلسطینی شہید،المواسی کیمپ میں 71شہید، بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ہوگئے، شاطی کیمپ میں مسجد پر فضائی حملہ، 20شہید ، فلسطین کا کہنا ہے کہ قتل عام کا ذمہ دار امریکا ہے ، اردن، ایران اور مصر کی مذمت، حماس نے المواسی کیمپ میں اپنے کمانڈرز کونشانہ بنانے کا اسرائیلی دعویٰ مسترد کردیا۔ تفصیلات کے مطابق غزہ میں المواسی کیمپ کے محفوظ قرار دیئے گئے علاقے پر طیاروں سے بمباری میں 71فلسطینی شہید اور 300کے قریب شدید زخمی ہوگئے، الجزیرہ کے مطابق خوفناک بمباری سے بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ہوگئے،المواسی پناہ گزین کیمپ میں ہزاروں فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے ،عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے امدادی کارکنوں اور شعبہ صحت کی ٹیموں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ جائے وقوع پر پہنچے۔اسی طرح الشاطی کیمپ میں شہید مسجد کے ملبے پر نماز ادا کرنے والوں پر اسرائیلی طیاروں نے بمباری کردی جس کے نتیجے میں 20فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ فلسطینی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قتل عام کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے ، اردن، ایران اور مصر نے بمباری کی شدید مذمت کی ہے ، اسرائیلی فوج نے پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد ضیف اور دوسرے کمانڈر رافا سلما کو نشانہ بنایا، تاہم حماس نے اسرائیلی دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے قصور اور نہتے شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ مصری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس طرح کے جرائم کو کسی بھی جواز کے تحت قبول نہیں کیا جا سکتا۔حماس نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد "خوفناک قتل عام کی شدت کو چھپانا ہے۔حماس کے مطابق المواسی کیمپ پر حملے میں ان کا کوئی رہنما نشانہ نہیں بنا ہے ۔حماس نے ٹیلی گرام پر ایک بیان بھی جاری کیا جس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں سے حملے کے جواب میں "احتجاجی مظاہرے " کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔