پی ٹی آئی پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی مخالفت پرنظرثانی کرے، مخصوص نشستوں کے کیس میں ہونے والے عدالتی فیصلے میں اسی وجہ سے قاضی فائز عیسیٰ اقلیت بنے،سابق صدر سندھ ہائیکورٹ بار

14 جولائی ، 2024

کراچی (جنگ نیوز)سپریم کورٹ کےمخصوص نشستوں کے کیس میں فیصلے پر پی ٹی آئی کے جشن کو جائز قرار دیتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ بار کے سابق صدر نے سوال اٹھایا ہے کہ میں جاننا چاہتاہوں کہ پی ٹی آئی کے دوست اب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو کیسے دیکھتے ہیں اور اپنی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کے بینچ بنانے کے تفویض کردہ حق کیلیے اپنی حمایت کو وہ کیسے دیکھتے ہیں۔سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو برقراررکھنا قاضی فائز عیسیٰ کی عدالت کی بڑی وراثتوں میں سے ایک ہے باوجود اس کے کہ اسی کی وجہ سے وہ سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے میں اقلیت بن گئے۔ ایک صارف نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ کسی بڑے آئینی مقدمے میں جب کوئی چیف جسٹس اس سے پہلے اقلیت میں گیا وہ جج ناصرالملک کا 21 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مقدمہ تھا۔ بعد چیف جسٹس آف پاکستان بالخصوص ثاقب نثار اور بندیال تو ہم خیال بینچ تشکیل دیتے رہے تاکہ وہ کبھی اقلیت نہ بن سکیں۔ساختیاتی اصلاحات کسی سیاسی ضرورت پر قربان نہیں ہونی چاہئیں۔ اپنے ایک اور ٹوئیٹ میں اسی صارف نے مزید لکھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بینچ بنانے اور مقدمات فکس کرنے کا اختیار میں غلطہ دینا ایک خراب خیال تھا اور اب چیف جسٹس آف پاکستان سے قطع نظر میں اس پر حیران ہوتا ہوں کہ اقتدار میں موجود لوگ اور ان کے حامی کیوں کبھی اس کے بارے میں نہیں سوچتے‘‘۔