آئی ایم ایف کا ہماری کیپٹل مارکیٹ میں کلیدی کردار ہے،علی پرویز

14 جولائی ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام’’ نیا پاکستان‘‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے کہا ہےکہ آئی ایم ایف کا ہماری کیپٹل مارکیٹ میں کلیدی کردار ہے، ہر آمدنی پر ٹیکس لگنا چاہیے اسی طرح تنخواہ دار طبقہ اور غریب پر بوجھ کم کرسکتے ہیں،پانچ ملین لوگوں کے ٹیکس نیٹ میں آجانے سے تین چار سو ارب روپے کا اثر پڑے گا،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ عدت کیس کو شرمناک اور بیہودہ کہنا سراسر زیادتی ہے یہ سوشل میڈیا کا پیدا کردہ پروپیگنڈا ہے،نمائندہ جیو نیو ز شبیر ڈار نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف نیب نے توشہ خانہ کا دوسرا ریفرنس دائر کیا ہے جس میں ان کی گرفتاری ڈال دی گئی ہے۔عدت کیس کے فیصلے کے بعد اڈیالا جیل میں ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے کہا کہ یہ ایک بڑا دن ہے پاکستان کی معیشت میں جو استحکام نظر آرہا ہے اگر یہ آئی ایم ایف پروگرام کسی طرح سے خراب ہوتا تو شاید ہم اس دورانیہ میں چلے جاتے جو سال ڈیڑھ سال پہلے تھا کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی۔یہ اچھی ڈیولپمنٹ ہے اس سے مہنگائی پر قابو پایا جاسکے گا۔ اگلے تین چار سال میں سو بلین ڈالر کی فنانسنگ یا ری فنانسنگ کروانے کی ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کا ہماری کیپٹل مارکیٹ میں کلیدی کردار ہے۔ ہمیں دیہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا حکومت پیداوار صلاحیت کو بہتر کر رہی ہے یا نہیں کر رہی ہے آج شہبازشریف ریفارم کا ایجنڈا لے کر چل رہے ہیں اس چیز کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ ایف بی آر کے آفس میں خود آئے ہیں اور اس ایف بی آر کے ٹرانسفرمیشن کے پراسیس کو اون کیا ہے۔ اگر ریونیو کو بڑھانا ہے اور شیئرر کرنا ہے تو آپ کو اصلاحات لانی ہیں اور مراعات یافتہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لاسکیں۔وزیراعظم کی ذاتی درخواست پر بل اینڈ میلنڈا گیٹ فاؤنڈیشن ہے چار ملین ڈالر کی گرانڈ دی ہے اور اس پیسے کو استعمال کرتے ہوئے میکنزی جو دنیا کا سب سے بڑا کسلٹنٹ ہے وہ پچھلے دو مہینے سے ایف بی آر میں موبائلز ہے اور اینڈ ٹو اینڈ ڈیجٹائزیشن کو آگے لے کر چل رہا ہے۔آج جو بریفنگ وزیراعظم کو دی گئی کہ وہاں پر ہم نے پانچ ملین نئے ٹیکس کے جن کو فائلر بنا سکتے ہیں ان کو پن پوائنٹ کیا ہے۔ وزیر خزانہ اینگیج ہیں ریٹنگ ایجنسی سے ہیں کیوں کہ کیپٹل مارکیٹ سے پیسے لے لینا صرف مقصد نہیں ہے اس کی پرائس کو بھی ریشنالائز کرنا مقصد ہے ۔