اس فانی دنیا میں بہت سے طبقات اپنی بے پناہ طاقت کے نشے میں یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ جو چاہے کر سکتے ہیں ۔ آپ دورکیوں جاتے ہیں ، امریکہ کی مثال لیں۔ ایک وقت تھا ، جب امریکہ میں ویت نام جنگ کے خلاف ایک لفظ کہنا بھی امریکی قومی سلامتی کے خلاف بہت بڑا جرم سمجھا جاتا تھا ۔ عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی نے جب اس جنگ کا حصہ بننے سے انکار کیا تو اسے اس کے اعزازات سے محروم کر کے جیل میں بند کر دیا گیا ۔ پھر کیا نتیجہ نکلا اس جنگ کا ؟
اپنی طاقت کے نشے میں امریکہ نے بار بار غلطیاں کیں اور بار بار منہ کی کھائی۔میں گو یہ سمجھتا ہوں کہ ملا عمر اور اسامہ بن لادن نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا لیکن امریکہ نے افغانستان کی جنگ سے کیا حاصل کیا؟ دو ہزار ارب ڈالر کا نقصان اور اقوامِ عالم میں بے پناہ شرمندگی ۔ ہمیشہ اسے یہ طعنہ دیا جاتا رہے گا کہ سپرپاور دو ہزار ارب ڈالر خرچ کرنے اور کئی ممالک کی افواج کو ساتھ لے جانے کے باوجود فاقہ کش افغانوں سے ہار گئے ۔ کتنی بے عزتی کی بات ہے لیکن آپ یاد کریں کہ اگر کوئی امریکیوں کو افغانستان کی جنگ سے منع کرتا تواسے غدار قرار دیا جاتا۔ایران میں کیا ہوا ؟ کیااپنا پورا زور لگانے کے باوجود امریکہ امام خمینیؒ کا راستہ روک سکا ۔
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؓ کے خلاف جن لوگوں نے بغاوت کی، بظاہر وقتی طور پر تو وہ کامیاب ہو گئے۔ بظاہر ان کا اقتدار ختم کر دیا گیا۔ کربلا میں اہلِ بیت کے خون سے ہولی کھیلنے والے کئی عشرے خود کو کامیاب سمجھتے رہے ۔ پھرآخر کیا نتیجہ نکلا؟ آج ہے کوئی ان کانام لیوا ؟
اہلِ بیت علیہم الرضوان جیسا تو کبھی کوئی تھا ہی نہیں۔ نیلسن منڈیلا صرف ایک سیاسی لیڈر تھا۔ طاقت کے مراکز نے اسے جیل میں ڈالے رکھا اور کئی عشرے اپنی فتح کے شادیانے بجائے۔ آخر جب نتیجہ نکلا تو ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا ۔خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فل کورٹ فیصلے سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ پہلے ذرا آپ پاکستان کے ماضی پر غور کریں ۔تحریکِ پاکستان میں قائدِ اعظم کی فقید المثال کامیابی پر غور کریں ۔ آپ 2007ء کی عدلیہ بحالی تحریک دیکھیں ۔ اگر کوئی غور کرے تو یہ بات صاف ظاہر ہے کہ پاکستان اب ایک ایسا معاشرہ نہیں رہا، جسے طاقت کے زور پر مکمل طور پر مینج کیا جا سکے ۔ اس بات کو جو لوگ نہیں سمجھ رہے ، ان کے ہاتھ ناکامی کے سوا کچھ نہ آئے گا۔
دنیا کی سپر پاورز بھی اگر حالات کے دھارے کو اپنی مرضی سے موڑنا چاہیں توان کے ہاتھ بھی ذلت کے سوا کچھ نہیں آتا،ان کے مقابل پاکستان تو شے ہی کیا ہے؟جو لوگ تجربے کرتے رہنا چاہتے ہیں ، وہ اپنا شوق پورا کر لیں۔ ذو الفقار علی بھٹو کو لانچ کرنے اور ختم کرنے کا تجربہ کیا گیا ، کیا نتیجہ نکلا ؟ بھٹو خاندان کے خلاف نواز شریف کو تخلیق کرنے کا تجربہ کیا گیا۔ کیا نتیجہ نکلا ۔ الطاف حسین کو تخلیق کرنے کا تجربہ کیا گیا ۔ کیا نتیجہ نکلا۔ کئی ایسی شخصیات کو تخلیق کیا گیا، اقوامِ متحدہ میں جو پاکستان کی مستقل سبکی کا باعث ہیں۔
2024ء کے عام انتخابات میں تحریکِ انصاف کوختم کرنے کا جو تجربہ کیا گیا، اس کا کیا نتیجہ نکلا ۔ اس سب کالبِ لباب یہ ہرگز نہیں کہ عمران خان انسانی تاریخ کا ایک عظیم لیڈر ہے ۔ لبِ لباب یہ ہے کہ عوام اگر اسے ایک موقع دینا چاہتے ہیں تو آپ اس کی مزاحمت کیوں کر رہے ہیں ؟ ماضی کے تجربات سے آپ نے کیا سبق سیکھا۔ ڈالر178روپے کا تھا ، 278کا ہو گیا ۔ ڈالر کی قیمت میں سو روپے کا اضافہ پاکستانی معیشت پہ اس ایٹم بم کی طرح گرا، جس نے تیل کی قیمت کو آسمان پہ پہنچا دیا ۔ معیشت جاں بہ لب ہو کر رہ گئی ۔ ناتواں سیاسی حکومتوںکے خلاف دائیں بازوکے مذہبی پریشر گروپوں سے دھرنے دلوانے کا سلسلہ بند ہو جانا چاہئے ۔ بعد میں پھر وہ جیب میں قرآن لے کر پھرتے ہیں کہ اس پہ ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائیں اور لوگوں کو اپنی بے گناہی کا یقین دلائیں ۔ دوسری طرف حال یہ ہے کہ اہم لوگ بار بار یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ سوشل میڈیا ٹرولنگ سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق اگر نہ پڑتا تو آپ بار باراس کا ذکر ہی نہ کرتے ۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ان تجربات کا سلسلہ روک دیا جائے ۔ سیاست کو آپ اس کے حال پر چھوڑ دیں ۔ سیاست کو سیاسی لیڈروں اور عوام پہ چھوڑ دیں ۔ تمام سیاست دانوں کی سیاست کو اس کی طبعی عمر پوری کرنے دیں ۔نالائق اور کرپٹ لیڈر اپنی موت آپ مر جائیں گے ۔ اگر آپ تجربات کا سلسلہ نہیں روکیں گے تو حالات کا بے رحم دھارا وہی نتائج دہراتا رہے گا، زخم لگا تا رہے گا ۔سیاست دانوں کے ایک حصے کو اپنا باجگزار بناکر اس کے سر پہ ظاہری اقتدار کا تاج رکھ دینے اور باقیوں کو عبرت کا نشان بنادینے کا تجربہ اگر ایک ہزار دفعہ بھی کیا جائے گا تویہی نتیجہ نکلے گا۔ خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں پر سپریم کورٹ کے فل کورٹ فیصلے سے صاف ظاہر ہے کہ چالاکی کے بل پر معاملات مستقل طور پر کنٹرول نہیں کیے جا سکتے ۔ ہمیں اب ایک نیا تجربہ کرنا چاہئے ۔ سب ایک دوسرے کو معاف کر دیں اور اپنی آئینی حدود میں لوٹ جائیں۔ ان شاء اللہ بالآخر ہم اٹھ کھڑے ہوں گے۔
مزید خبریں
-
پاکستانی صحافت کا روشن با ب الطاف حسن قریشی 94 سال کی عمر میں طویل اور مسلسل با مقصد زندگی گزار کر گذشتہ شام...
-
ویسے سچ پوچھیں تو مجھے امید نہیں تھی کہ مریم نواز کوئی غیر معمولی کارکردگی دکھا سکیں گی۔ میں نے کئی اور لوگوں...
-
آئی ہے خبر کہ ہوگئے وہدنیا کے غم و الم سے آزادالطاف حسن قریشی صاحب لوگوں کو رہیں گے مدّتوں یاد
-
بلاک……مبشر علی زیدیآج ایک پرانے دوست کو سوشل میڈیا پر بلاک کردیا،ڈوڈو نے دکھی لہجے میں بتایا۔جھگڑا ہوا...
-
پاکستان میں صحافت کے شعبہ میں اقتصادی امور کے حوالے سے محنت اور کاوشوں کے بعد پچھلے سال جب باقاعدہ طور پر...
-
ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکے سر پر اپنی چھت اور اپنا مکان ہو جس کیلئے وہ پوری زندگی جدوجہد کرتا ہے۔ اس وقت...
-
حدیقہ کیانی سے مجھے ہمیشہ ایک انجانی سی جڑت، شفقت اور روحانی قربت کا احساس رہا ہے۔اُس کی شخصیت میں جھلکتی ایک...
-
افغان طالبان کے برسراقتدار آنے سے پہلے جب پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو نصیراللہ...