بلوچستان سیاسی یتیموں کا مرکز جس کو چاہے مسلط کردیاجائے،نواب رئیسانی نے ریکوڈک کادفاع کیا،لشکری رئیسانی

21 جولائی ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان پیس فورم کے چیئرمین سنیئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ شعوری جدوجہد کے ذریعے اپنی سرزمین کو بحرانوں سے نکال کر آئندہ نسلوں کے حوالے کریں ، صوبے کے مستقبل ، آئندہ نسلوں کے وقار اور عزت کیلئے جدوجہد سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا ، ہم نے صحیح اور غلط کے درمیان لکیر کھنچی ہے ، اصولوں کے تابع اور آئندہ نسلوں کو جوابدہ ہیں ، جو سیاسی جماعتیں حادثات اور واقعات کی سیاست کرتی ہیں ان کے پاس منشور ، پروگرام اور آئندہ نسلوں کیلئے کچھ نہیں ۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو بلوچستان پیس فورم کے زیراہتمام بلوچستان کی بدحالی اور سیاسی جماعتوں کا کردار کے عنوان سے کوئٹہ پریس کلب میں سیمینار سے خطاب میں کہی ، سیمینار سے سینئر صحافی انورساجدی ، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند ، پشتونخوانیپ کے صوبائی صدر سابق رکن اسمبلی نصراللہ زیرے ، سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد ، عمر جان بلوچ ، کوئٹہ بار کے سابق جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ ، سینئر صحافی رضا الرحمٰن ، طور آغا ، روزینہ خلجی ، اطہر ہزارہ ، چوہدری زبیر، وحید زہیر اور شعیب رئیسانی نے بھی خطاب کیا ۔ لشکری رئیسانی نے سیمینار کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایک شعوری مذاکرے میں گھنٹوں لوگوں کی شرکت اپنے آئندہ مستقبل سے سنجیدگی کی غمازی کرتا ہے ۔انہوں نے بنوں میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ بنوں میں پرامن سیاسی آواز کو دبانے کیلئے ایسے واقعات رونما ہوئے ، انہوں نے کہا کہ 2008 میں جب صوبے میں نواب محمد اسلم رئیسانی کی سربراہی میں حکومت قائم ہوئی تو میں بار بار یہ کہتا تھا کہ اس سلسلے کو برقرار رکھنے کے لئے سیاسی عمل کو شفاف رکھتے ہوئے صوبے کے معاملات پر توجہ دی جائے جو لوگ وزیر بنے ان کو میری بات اچھی نہیں لگی ۔انہوں نے کہا کہ نواب رئیسانی نے ریکوڈک کا دفاع کیا ، گوادر میں لاکھوں ایکڑ ارضی کی الاٹمنٹ منسوخ ، گوادر کو بلوچستان کا سرمائی دارالحکومت قرار دیا جس کے بعد بلوچستان امن و امان کا مصنوعی مسئلہ پیدا کیا اور اس مسئلے کو بڑھاوا دیا گیا آج جب بنوں میں یہ سب کچھ ہوا تو مجھے 2008ء سے 2012 ء تک واقعات میرے سامنے آئے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بلوچستان کے ارکان کی تعداد کم ہونے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن سینیٹ میں تمام قومی اکائیوں کی نمائندگی یکساں ہے مگر وہاں بھی باہر کے لوگوں کو صوبے پر مسلط کئے گئے، کیا بلوچستان سیاسی یتمیوں کا مرکز ہے جس کو جہاں سے چاہے لاکر مسلط کیا جائے ، جو جماعت اپوزیشن کا دعویٰ کررہی ہے ایک نظر بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات پر دوڑائی جائے کہ ان میں ان کا کردار کیا رہا ۔ سیاسی جماعتیں لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے ایک معمولی واقعہ پر چیخ پڑتی ہیں مگر وسائل کی لوٹ مار پر کبھی بات نہیں کرتی ہیں ، تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں وہ آئیں ایک آل پارٹیز کانفرنس میں یہ طے کریں جو سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی ہمنوا بنیں گی ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ میں پارٹیاں چھوڑتا ہوں تو میں کہتا ہوں جو پارٹی اپنا موقف تبدیل کرتی ہے وہ میری پارٹی نہیں رہتی ، سیاسی پارٹیوں کے دروازے حقیقی قیادت کیلئے بند اور غیر سیاسی لوگوں کیلئے تمام سیاسی پارٹیوں کے دروازے کھلے ہیں ۔ میں انتخابات میں ہار جاتا ہوں اور وہ شخص جو بیسیوں بار میرے پاس چل کر آیا وہ جیت جاتا ہے ۔