عالمی عدالت،خودمختاری ریاست فلسطینی عوام کا حق،اسرائیلی قبضہ غیر قانونی قرار،فوری ختم کرنے کاحکم

21 جولائی ، 2024

برسلز،کراچی(حافظ انیب راشد، نیوز ڈیسک ) عالمی عدالت انصاف نے قراردیا ہے کہ خود مختار ریاست فلسطینی عوام کااصولی حق اوراسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہے،اس کوفوری ختم کیاجائے، اسرائیل مغربی کنارے پر زبردستی تسلط قائم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے،آبادکاری منصوبے اورغیرقانونی بستیاں ختم کرکے فلسطینیوں کو نقصانات کامعاوضہ دیاجائے، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارےفلسطین پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم نہ کریں ، خودمختارفلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کاساتھ دیں۔دی ہیگ میں منعقدہ اجلاس میں 15 رکنی عدالت انصاف نے کہا کہ عدالت اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں پر اپنی رائے دینے کا حق رکھتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ 1958 کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شہریوں کے تحفظ سمیت انہیں پانی اور غذائی امداد پہنچانے کا پابند ہے، تاہم اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ عدالت نے کہا کہ یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی جائیدادوں پر جاری قبضے سے اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، ساتھ ہی اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے شہریوں کو زبردستی بے دخل کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا فلسطینیوں کے علاقوں پر جبری قبضہ کرکے اپنی اجارہ داری قائم کرنا جنیوا معاہدے کے آرٹیکل 53 اور 64 کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسرائیل فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں کے وسائل غصب کررہاہے۔عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ٹھوس شواہد کے مطابق اسرائیل مغربی کنارے پر زبردستی اپنا تسلط قائم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، عدالت نے مزید کہا کہ عدالت مغربی کنارے میں اسرائیلی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے دی گئی وجوہات اور دلائل سے قائل نہیں ہوئی۔عدالت نے کہا کہ اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں غاصبانہ انداز اپنایا ہوا ہے جیسے وہ اس کا علاقہ ہے، اسرائیل کی پالیسیوں اور کارروائیوں نے فلسطینیوں کے لیے حق خود ارادیت کے حصول کو انتہائی دشوار کر دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا فلسطینیوں کے ساتھ جاری برتاؤ نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے، فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیاں انسداد نسل پرستی معاہدے کے آرٹیکل 3 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسرائیل نے 2009 میں فلسطینیوں کے 11 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کردیا تھا، مقبوضہ بیت المقدس کو دیوار کی مدد سے تقسیم کرنے سمیت یہودی بستیاں قائم کرنے کا مقصد مغربی کنارے میں اسرائیلی تسلط کو مزید فروغ دینا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت سمجھتی ہے قابض اسرائیلی حکومت فلسطینی قوم کو خودمختاری سے روک نہیں سکتی، اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے جلد از جلد اپنے قبضے کا خاتمہ کرے، اسرائیل فلسطینیوں کے علاقوں پر غیر قانونی طریقے سے موجود ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کی طرف سے 1967 کی حد بندی بشمول مشرقی بیت المقدس کی آبادیاتی تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتی، تمام ممالک کو فلسطینیوں کی خودمختاری کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کا ساتھ دینا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ علیحدہ اور خودمختار ریاست کا قیام فلسطینیوں کا حق ہے، اسرائیلی اور مقبوضہ علاقوں میں تفریق کرنا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے، اسرائیل کو فلسطینیوں کے علاقوں پر قائم ناجائز قبضہ ختم کرنا ہوگا، تمام ممالک پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل اور آبادکاروں کے ناجائز قبضوں کو تسلیم نہ کرنے کی ذمہ داری عائد ہے۔ عدالت نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اسرائیل کی اجارہ داری تسلیم نہ کریں، اقوام متحدہ فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کے منصوبوں کو روک کر پہلے سے قائم غیر قانونی بستیاں ختم کرے، اسرائیل تمام مقبوضہ علاقوں کے رہائشیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے۔