انتہاپسند و دہشتگرد عناصر کیخلاف حقیقی ٹارگٹڈ کاروائیاں کی جائیں، سیاسی جماعتیں

21 جولائی ، 2024

کوئٹہ+ پشین+ ژوب+ لورالائی+مسلم باغ (پ ر) پشتون ملتپال، ترقی پسند اور جمہوری پارٹیوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ بنوں کا المناک واقعہ پشتون ملت کے خلاف جاری کاروائیوں، نسل کشی اور پشتونخوا وطن کے معدنی وسائل پر قبضے کرنے کا تسلسل ہے اور اس کا مقصد پشتون افغان ملت کی قومی، سیاسی،معاشی اور ثقافتی محکومی کو مزید مسلط رکھ کر ہمارے عوام کی پُرامن احتجاجی، سیاسی جمہوری جدوجہد کو بھی ختم کیا جائے اور نام نہاد دہشتگردی کی آڑ میں پشتونخوا وطن پر ایک اور جنگ مسلط کرکے پشتون افغان ملت کو دنیا کے سامنے دہشتگرد کے طورپر پیش کیا جائے اور اسی نام نہاد دہشتگردی اور جنگ کے نام پر دنیا کے ممالک سے مالی فوائد حاصل کریں۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوانیپ کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، نیشنل ڈیموکریٹک موؤمنٹ کے صوبائی سیکریٹری ایمل خان، اے این پی کے ضلعی صدر ثناء اللہ کاکڑ نے پریس کلب کوئٹہ پشتونخوانیپ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، اے این پی کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری عبیداللہ عابد، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری عبدالباری کاکڑ، پشتونخوا نیپ کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری خلیل ترین نے پشین، پشتونخوا نیپ کے صوبائی نائب صدر عبدالقیوم ایڈوکیٹ، اے این پی کے جمعہ خان بابڑ، این ڈی ایم کے عدنان شالیزئی اور جمعیت نظریاتی کے مولوی محمد خان ناصر نے ژوب اور پشتونخوانیپ کے مرکزی سیکریٹری سردار گل مرجان کبزئی، مصطفیٰ کمال، اے این پی کے ضلعی صدر منظور کاکڑ اور این ڈی ایم کے شریف ایڈوکیٹ نے لورالائی میں،پشتونخوانیپ کے صوبائی سینئر نائب صدر اللہ نور خان، اے این پی کے ملک شکور خان اور این ڈی ایم کے اختیار محمد نے مسلم باغ میں احتجاجی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ چمن، دُکی، زیارت، قلعہ سیف اللہ میں بھی احتجاجی مظاہرے اور جلسے منعقد ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ بنوں کے پُرامن احتجاجی مارچ کے شرکاء بنوں شہر اور آس پاس کے علاقوں میں مسلح تنظیموں کے اڈے اور دفاتر ختم کرنےامن وامان کے قیام، لاقانونیت اور بدامنی کے خلاف احتجاج کررہےتھے۔ بنوں سمیت مختلف علاقوں میں مسلح تنظیموں کے گروپس اور دفاتر تک موجود ہیں اور اُن کی بھتہ خوری اور عوام دشمن کاروائیاں ہر ایک کے سامنے ہیں لیکن اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پشتونخوا کی اسمبلی کی جانب سے آپریشن کے خلاف قرارداد کی منظوری نے وفاقی حکومت، اُن کے اداروں، سیکورٹی فورسز کے فیصلوں کو مسترد کردیا ہے اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ نام نہاد آپریشن کے نام پر پشتونخوا وطن پر غیر اعلانیہ جنگ مسلط کی جارہی ہے اور پشتون افغان عوام کسی بھی آپریشن کی حمایت نہیں کرتے بلکہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیکر برسرزمین حقائق کو تسلیم کریں اور انتہاپسندی و دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف حقیقی بنیادوں پرایسے ٹارگٹڈ کاروائیاں کریں جس کے نتیجے میں گرفتار اور ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مکمل شناخت کو عوام کے سامنے لایا جائے۔