پاکستان میں بڑھتی آبادی معیشت پر بڑا بوجھ ہے،سینیٹرعبدالقادر

21 جولائی ، 2024

اسلام آباد (پ ر ) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت جن مشکل مسائل میں گھرا ہوا ہے ان میں شرح آبادی میں اضافہ بھی سب سے زیادہ توجہ طلب ہے کیونکہ ملکی معیشت پر اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معاشی بحران نے انسانی زندگی کے نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے، پاکستان کی آبادی 25 کروڑ نفوس تک پہنچ چکی ہے اور آبادی بڑھنے کی رفتار 2.55 فیصد ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے اگر رفتار یہی رہی تو 2050 تک آبادی دوگنا ہو جائے گی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان آبادی کی افزائش کے اعتبار سے سرفہرست ہے، چالیس سال سے کم عمر افراد کی تعداد مجموعی آبادی کا 61.12 فیصد یعنی سب سے زیادہ ہے، افزائش آبادی کی روک تھام کیلئے بہبود آبادی کے نام سے محکمہ موجود ہے جس کے پاس نہ تو اتنا بجٹ ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ جو 96 فیصد مسلمان آبادی والے ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیب و تربیت کے تقاضوں پر پورا اتر سکے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے جس پر قابو پانے کیلئے پہلے تو حکومت کو چاہئے کہ اس معاملے کو اپنی اولین ترجیح قرار دے۔ کم بچوں کے تصور کو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کے مطابق توازن آبادی کے نظر ئیے میں تبدیل کرے، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ چین کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد اور بھارت کی آبادی ایک ارب چونتیس کروڑ کے قریب ہو چکی ہے، ان ممالک نے اپنی بے تحاشا آبادی کو اپنے لئے وبال جان سمجھنے کی بجائے ایک نعمت سمجھ کر اسے ترقیاتی کاموں میں مصروف کر کے اپنے مسائل حل کیے ہیں، ان ممالک کی حکومتوں نے اپنی آبادی کی تعلیم و تربیت اور روزگار کے مسائل احسن طریقے سے حل کر لئے ہیں جس کی وجہ سے انکی آبادی ان ممالک کے لئے وبال بننے کی بجائے سہولت بن چکی ہے، پاکستان کو ایسی ہی بنیادوں پر اپنے ملک کی آبادی کے مسائل حل کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں ہم بڑھتی ہوئی آبادی کے بوجھ تلے دب کر مزید مسائل کا شکار نہ ہو جائیں۔