ہر الیکشن میں دھاندلی کی باتیں ہوتی ہیں،عوام کھڑے ہوجائیں تو حکومت گھٹنے ٹیک دے گی،مفتی تقی عثمانی

21 جولائی ، 2024

کراچی (نمائندہ جنگ) معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ہر الیکشن میں دھاندلی کی باتیں ہوتی ہیں ‘عوام کھڑے ہوجائیں توحکومت گھٹنے ٹیک دیگی‘ دنیا میں انقلاب حکومت نہیں عوام کے ذریعے آتے ہیں‘ہم آئی ایم ایف کے غلام‘ہمارابچہ بچہ مقروض ہے ‘ملک سیاسی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے ‘ہرشخص میں مایوسی پھیل رہی ہے ‘سوال یہ ہے کہ غلطی کہاں ہوئی، جڑ کہاں ہے؟ملکی اور معاشی ترقی کے لیے سود کا خاتمہ نا گزیر ہے‘ہمیں ہر قیمت پر مغرب کی غلامی سے نکلنا ہوگا، موجودہ حالات میں اسلامی قوانین نافذ کرنا بہت مشکل ہے‘ ہم غلام ہیں تو ہمیں عالمی اداروں کی بات ماننا پڑتی ہے،ہم آئی ایم ایف کے بغیر نہیں چل سکتے‘آئی ایم ایف کی غلامی نے یہ دن دکھایا ہے‘ ایسی تحریک جو اس غلامی سے آزادی دلائے وہ سیاسی سطح پر کامیاب نہیں ہو رہی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے فیڈریشن ہاؤس کراچی میں کارو باری برادری کے ارکان سے خطاب میں کیا ‘مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے سود کا خاتمہ نا گزیر ہے،کاروباری برادری شرعی اصولوں کی پاسداری کرے تاکہ ملک میں مساوات اور خوشحالی کا دور دورہ ہو‘ہمارا سیاسی نظام آزاد نہیں غلام ہے۔سیاسی سطح پر سودی نظام کے حوالے سے کچھ نہیں ہورہا۔ہماری گردن میں طوق ہے کہ یورپی یونین کوایکسپورٹ کرتے ہیں توہمیں کچھ رعایت ملتی ہے۔ یورپی یونین نے جوتھوڑی مراعات دی ہوئی ہیں اس کے بدلے میں شرط رکھی ہے کہ ہم اپنے ملک میں ایل جی بی ٹی کوفروغ دیں۔ پاکستان کامطلب کیاکلمہ تھا لیکن ہم نے کلمے کوبھلادیا ہے‘پاکستان میں انگریزوں کا نظام قائم کیا ہوا ہے۔سرکاری سطح پرامپورٹ پرپابندی لگائی جاتی ہے توعالمی ادارے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس لئے تاجر اورعوام فیصلہ کرلیں کہ امپورٹڈ چیزیں استعمال نہیں کرنی ہیں۔ یہ تحریک چلائی جائے کہ غیرضروری درآمدی چیزیں نہیں منگوانا جو مسلمانوں کا گلاٹ کاٹ رہی ہیں‘معاشرے کے مختلف طبقات جمع ہوں اور غلامی سے نکلنے کا راستہ نکالیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں مغرب کو آئیڈیل بنا لیاگیا، انگریز ریلوے کی جو لائن ڈال گئے تھے، اس کے بعد کوئی لائن نہیں ڈالی گئی، سوال یہ ہے کہ غلطی کہاں ہوئی، جڑ کہاں ہے؟ ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں، اسی کے نتیجے میں آج ہمارا بچہ بچہ قرض دار ہے‘ان حالات میں سیاسی نظام کے ذریعے اسلامی نظام کا لانا مجھے مشکل لگتا ہے‘ہم اس وقت سیاسی اور اقتصادی بحران کا شکار ہیں،حالات ایسے ہیں ہر شخص میں مایوسی پھیل رہی ہے،تاجر برادری سیاست کو بھی صحیح راستے پر آنے پر مجبور کر سکتی ہے ، ہم سیاسی نظام میں غلام ہیں، آزاد نہیں‘کاروباری حضرات دیگر ممالک میں جاکر فلسطین میں مدد پہنچانے کی کوشش کریں‘اب ساری دنیا میں اسلامک بینکنگ فروغ پا رہی ہے۔اسلامک بینکنگ میں سود سے کم پیسے ملتے ہیں، اس نظام کو 100 فیصد تک اسلامی کرنا آسان نہیں، اسلامی نظام لانے کا کام مرحلہ وار ہوگا۔ تاجر فیصلہ کرلیں کہ مقامی برانڈز کو فروغ دیں گے‘ ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ فلسطین میں 2 ریاستوں کے قیام کی بات سے پرہیز کیا جائے۔